شامِ غم جب بکھر گئی ہو گی


شامِ غم جب بکھر گئی ہو گی

جانے کس کس کے گھر گئی ہو گی؟

اِتنی لرزاں نہ تھی چراغ کی لَو

اپنے سائے سے ڈر گئی ہو گی.

چاندنی ایک شب کی مہماں تھی

صبح ہوتے ہی مَر گئی ہو گی.

دیر تک وہ خفا رہے مجھ سے

دُور تک یہ خبر گئی ہو گی.

ایک دریا کے رُخ بدلتے ہی

اِک ندی پھر اُتر گئی ہو گی.

جس طرف وہ سفر پہ نکلا تھا

ساری رونق اُدھر گئی ہو گی.

رات سورج کو دھونڈنے کے لیے

تا بہ حدِّ سحر گئی ہو گی.

میری یادوں کی دھوپ چھاؤں میں

اُس کی صورت نکھر گئی ہو گی.

یا تعلّق نہ نبھ سکا اس سے

یا طبیعت ہی بھر گئی ہو گی.

تیری پل بھر کی دوستی محسنؔ

اُس کو بدنام کر گئی ہو گی.

Re: شامِ غم جب بکھر گئی ہو گی

Chandni ek shab ki mehmaan thi
Subh hote hue mar gai hogi

:hmmm: kafi gehra sher hai

Re: شامِ غم جب بکھر گئی ہو گی

جس طرف وہ سفر پہ نکلا تھا

ساری رونق اُدھر گئی ہو گی.

رات سورج کو دھونڈنے کے لیے

تا بہ حدِّ سحر گئی ہو گی.

میری یادوں کی دھوپ چھاؤں میں

اُس کی صورت نکھر گئی ہو گی.

:lajawab: