میرے بَس میں ہو اگر
میرے بس میں ہو اگر، تو کبھی کہیں
کوئی شہر ایسا بساؤں میں
جہاں دھنک کے رنگوں میں بھیگ جائیں حواس تک
جہاں چاند ماند نہ ہو کبھی ، جہاں چاندنی کی رِدا بنے
جہاں صرف حکمِ یقیں چلے ، جہاں بے نشاں ہو قیاس تک
جہاں آدمیت کے نطق و لب پہ ، نہ شہرِ یار کا خوف ہو
جہاں سرسرائے نہ آدمی کی رگوں میں کوئی ہراس تک
جہاں وہم ہو نہ دلوں میں وہم کا سہم ہو
جہاں سچ کو سچ سے ہو واسطہ
جہاں خوشبوؤں سے بدلتی رُت کو حسد نہ ہو
جہاں پستیوں سے بلندیوں کو بھی کد نہ ہو
جہاں خواب آنکھوں میں جگمگائیں تو
جسم و جاں کے سبھی دریچوں میں تیرگی کا گزر نہ ہو
جہاں داغ داغ سحر نہ ہو
جہاں برگ و بار سے اجنبی
کوئی ، شاخ کوئی شجر نہ ہو
میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں کوئی شہر ایسا بساؤں میں
جہاں برف برف محبتوں پہ غمِ جاں کا اثر نہ ہو
راہ و رسمِ دنیا کی بندشیں غمِ ذات کے سبھی ذائقے
سمے کائنات کی تلخیاں کسی آنکھ کو بھی نہ چھو سکیں
جہاں نوحۂ غمِ زندگی ، میری ہچکیوں سے عیاں نہ ہو
جہاں لوحِ خاک پہ عمر بھر ، کسی بے گناہ کے خون کا
کوئی داغ ، کوئی نشاں نہ ہو
کوئی شہر ایسا کبھی کہیں بساؤں میں
جہاں چاک ہو کوئی پیرہن، نہ سخنوروں کی زَباں کٹے
نہ ضمیرِ لوح و قلم ہو صَید ستمگراں ،نہ گداگری کا رواج ہو
نہ سپاہ و لشکرِ اہلِ حرف کے لَب سِلیں
جہاں چاہتوں کے ہجوم میں ، کبھی گیت امن کے گاؤں میں
جہاں زندگی کا رِجز پڑھوں ، جہاں بے خلل گنگناؤں میں
جہاں موج موج کی اوٹ میں تو کرن بنے ، مسکراؤں میں
میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں
کوئی شہر ایسا بساؤں میں ۔