نیزہ پہ اپنے سر کو سجا کر اک اجنبی

آنکھوں پہ دھوپ باندھ کے صحرا تھما گیا
یادوں کو کوئی اپنا ہی چہرہ تھما گیا

نیزہ پہ اپنے سر کو سجا کر اک اجنبی
مٹی کو اپنے خون کا تمغہ تھما گیا

غربت میں تیرگی کی روایت قدیم ہے
مانگا چراغ میں نے ، وہ سایہ تھما گیا

]برفاب ہوگیا تھا میں جذبوں کی دھوپ میں
]پھر کون دل کو تازہ ارادہ تھما گیا ؟

لیکر وہ مجھ سے میرے تصور کی حدتیں
میری خلش کو خام سا صدمہ تھما گیا

فرخ چراغ آنکھوں میں رکھ کر مری وہ شخص
کیوں گرد و پیش کو مرے کوہرا تھما گیا

Re: نیزہ پہ اپنے سر کو سجا کر اک اجنبی

Nice Sharing........

Re: نیزہ پہ اپنے سر کو سجا کر اک اجنبی

Different and nice :k:

Re: نیزہ پہ اپنے سر کو سجا کر اک اجنبی

wah wah :k: