میں تو خوشبو ہوں مجھے خواہش نہیں تشہیر کی

تُو نے ہی نام و نمود ِ ذات کی تدبیر کی
میں تو خوشبو ہوں مجھے خواہش نہیں تشہیر کی

کچھ گنہ کم کر تولوں،پر،نامہ ء اعمال سے
آنکھ ہٹتی ہی نہیں ہے کاتب ِ تقدیر کی

اپنے مطلب کی سبھی باتیں سمجھ لیتے ہیں لوگ
اب یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں تفسیر کی

روح تیری دسترس میں ہے تو کیا تُو نے کیا
میں نے تو پھر بھی عمارت جسم کی تعمیر کی

Re: میں تو خوشبو ہوں مجھے خواہش نہیں تشہیر کی

Bohat Khoob.........
**
اپنے مطلب کی سبھی باتیں سمجھ لیتے ہیں لوگ
اب یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں تفسیر کی**

Re: میں تو خوشبو ہوں مجھے خواہش نہیں تشہیر کی

اپنے مطلب کی سبھی باتیں سمجھ لیتے ہیں لوگ
اب یہاں کوئی ضرورت ہی نہیں تفسیر کی

:@:

Re: میں تو خوشبو ہوں مجھے خواہش نہیں تشہیر کی

achi hai