ہم جو اس شہر سے بےنُور نکل آئے ہیں
کرکے خود چاند کو محصور نکل آئے ہیں
ہم توکرنوں کے پُجاری ہیں، سو مانیں کیسے
رات کی رات جو دستور نکل آئے ہیں
اس سے آگے کا جو رستہ ہے وہاں نفرت ہے
ہم محّبت میں بہت دور نکل آئے ہیں
اب مرے درد کو تصویر کرو یا نہ کرو
سارے سُکھ چھوڑ کے رنجور نکل آئے ہیں
اب ترے شہر میں سائے بھی گریزاں ہم سے
سو تیرے شہر سے مجبور نکل آئے ہیں