[urdu]اِسی سہارے پہ دِن ہجر کا گزارا ہے
خیالِ یار ، ہمیں یار سے بھی پیارا ہے
صبا کا ، اَبر کا ، شبنم کا ہاتھ اپنی جگہ
کلی کو پھول نے جھک جھک کے ہی نکھارا ہے
کسی کے ہاتھ پہ مہندی سے دِل بنا دیکھا
میں یہ بھی کہہ نہ سکا یہ تو دِل ہمارا ہے
چلو بہارِ چمن لے کے گھر کو لوٹ چلیں
دَھنک کی لےَ میں کسی ’’شوخ‘‘ نے پکارا ہے
تم آسماں پہ نہ ڈُھونڈو سیاہ بدلی کو
کسی نے ہاتھ سے گیسو ذِرا سنوارا ہے
جو وَقت بیت چکا وُہ حسابِ ہجر میں لکھ
جو سانس باقی ہے دُنیا میں وُہ تمہارا ہے
یہ ہاتھ چھوڑنے سے پیشتر خیال رہے
خدا کے بعد فقط آپ کا سہارا ہے
گھٹا ، صراحی ، دَھنک ، جھیل ، پنکھڑی ، شبنم
بدن ہے یا کسی شاعر کا اِستعارہ ہے
یقیں تھا اُس کو کہ ہم شعر اِن پہ کہہ لیں گے
خدا نے حسن ، قلم دیکھ کر اُتارا ہے
صنم کو دیکھ کے ، کچی کلی نے ’’کھُل‘‘ کے کہا:
’’بہت ہی اُونچی جگہ **قیس **ہاتھ مارا ہے