**ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی
دیوار ِخواب نیند نے تِرچھی اٹھائی تھی
ردِ دعا کا نصف اساسہ تمہارے نام
تم نے بھی میرے ساتھ ہتھیلی اٹھائی تھی
مجھ کو میرے ہی دوسرے بازو نے ڈس لیا
شہر ِحوس سے سونے کی دھلی اٹھائی تھی
ہم جاگ تو رہے تھے مگر جانتے نہ تھے
کب آسماں نے آنکھ سے سرخی اٹھائی تھی
ہاتھوں کو دل نے خون کی ترسیل روک دی
میں نے تمہاری یاد پہ انگلی اٹھائی تھی