ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی

**ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی
دیوار ِخواب نیند نے تِرچھی اٹھائی تھی

ردِ دعا کا نصف اساسہ تمہارے نام
تم نے بھی میرے ساتھ ہتھیلی اٹھائی تھی

مجھ کو میرے ہی دوسرے بازو نے ڈس لیا
شہر ِحوس سے سونے کی دھلی اٹھائی تھی

ہم جاگ تو رہے تھے مگر جانتے نہ تھے
کب آسماں نے آنکھ سے سرخی اٹھائی تھی

ہاتھوں کو دل نے خون کی ترسیل روک دی
میں نے تمہاری یاد پہ انگلی اٹھائی تھی

**

Re: ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی

Hathon ko dil khoon ki tarseel rok di
Maine tumhari yaad pe ungli uthai thi

wah fari ji wah.. lagta hai ab Doctors ko bhi poetry ko injection lagana aa gaya :hehe:

Re: ملبہ ہٹا کے آنکھ کی کرچی اٹھائی تھی

nice sharing dude