ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خال ڈالیے ایسی اُڑان پر

آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

کتنے ہی زخم ہیٕ مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر

جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

حق بات آکے رک سی گئی تھی کبھی شکیب
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

Re: ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے

Chilke saje hon jaise phalon ki dukaan per :hinna:

Kia karen phal itne mehnge hain ke log ab tasveer main phal dekh ke Zardari ko duaen dete hain

Re: ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے

lolz .....zardari ko dua tu nahi dety honge phir

Re: ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے

Aap samjha karen na.. kabhi awam ne bhi kisi hukmuran ki dua di hai. :)

Re: ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے

nice sharing fari