ہم سفر ہو تو ایک کام کرو
گفتگو کے بنا کلام کرو
پلکیں کب تک رُکوع میں رکھو گے
حُسن کا واسطہ ، قیام کرو
شیخ جی بت کدے نہ آئیں گے
حُسنِ با پردہ کو اِمام کرو
عُمر بھر جِسم ، بازگشت سُنے
اُنگلیوں سے کبھی کلام کرو
اِس کا سورج غُروب ہوتا نہیں
حُسن کی مملکت میں شام کرو
گیسوئے یار سے گزارش ہے
بادِلوں کا تو اِحترام کرو
حُکمِ پردہ بتائیں گے واعظ
کچھ حَسینوں کا اِنتظام کرو
چُن دو دیوار میں دَھڑکتا دِل
عشق کی پوری روک تھام کرو
پیار ہر دین کا خلاصہ ہے
جس قَدَر ہو سکے یہ عام کرو
کیا خبر طُور جانا ہی نہ پڑے
**قیس **ہر پیڑ کو سلام کرو