ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں &#172

]قدم قدم پر بدل رہے ہیں مسافروں کی طلب کے رستے
ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں ہیں

کسی کا مقروض میں* نہیں پر مرے گریباں پہ ہاتھ سب کے
کوئی مری چاہتوں کا دشمن کسی کو درکار چاہتیں ہیں

میں دوسروں کی خوشی کی خاطر غبار بن کے بکھر گیا ہوں
مگر کسی نے یہ حق نہ جانا کہ میری بھی کچھ ضرورتیں ہیں

مری محبت کے رازداں نے یہ کہہ کے لوٹا دیا مرا خط
کہ بھیگے بھیگے سے آنسؤوں سے تمام گنجلک عبارتیں ہیں

تری جدائی کے کتنے سورج افق پہ ڈوبے مگر ابھی تک
خلش ہے سینے میں پہلے دن سی بدن میں ویسی حرارتیں ہیں

Re: ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں &

Nice. I liked the 3rd shair.

Re: ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں &

achi hi:k:

Re: ہواؤں جیسی محبتیں ہیں صداؤں جیسی رفاقتیں &

:hinna: nice