گفتگو سے اِجتناب اَچھا لگا
آنکھوں ، آنکھوں میں جواب اَچھا لگا
دَھڑکنوں کو روک کر سننے لگے
اِس قَدر اُن کا خطاب اَچھا لگا
حُور ایسی آج دیکھی راہ میں
نیکیوں کا ’’اِرتکاب‘‘ اَچھا لگا
اُف! سجانے والا تو ’’خود‘‘ سج گیا
زُلف میں تازہ گلاب اَچھا لگا
اَپنے کرنے کا بھی کوئی کام ہو
جب ’’یہ‘‘ سوچا تو حجاب اَچھا لگا
پانی پر ہم نیند میں چلتے رہے
رات بھر اِک آفتاب اَچھا لگا
اِس قَدر ڈُھونڈا تجھے ، رَب مل گیا
ہجر میں گزرا شباب اَچھا لگا
ایک آنسو کُل خطائیں دھو گیا
قاضیئ کُل کا حساب اَچھا لگا
شعر دُنیا کو پسند آئے ، ہمیں
آپ کے نام اِنتساب اَچھا لگا
ڈُھونڈتی پھرتی ہے لیلیٰ ، **قیس **کو
آسماں! یہ اِنقلاب اَچھا لگا