غُرورِ حُسن میں شاہی جلال ہوتا ہے
پری رُخوں کا سبھی کچھ کمال ہوتا ہے
بدن بھی حشر بپا دَھڑکنوں میں کرتا ہے
پھر اُس پہ چلنا قیامت کی چال ہوتا ہے
پناہ بادلوں میں ڈُھونڈتا ہے ماہِ تمام
جو بے حجاب وُہ زُہرہ جمال ہوتا ہے
کسی شجر پہ پکے پھل نے مسکرا کے کہا
یہ عشق روزِ اَزل سے وَبال ہوتا ہے
وُہ اَپنے عاشقوں کا ، ذِکر چھیڑ دیتے ہیں
مرے فرار کا جب احتمال ہوتا ہے
دُعا ہے عشق مرا ، تیری رُوح تک پہنچے
یہی نشاط فقط لازَوال ہوتا ہے
جو وَقتِ رُخصتِ محمل ، تھا حال مجنوں کا
کچھ ایسا حال مرا سارا سال ہوتا ہے
وُفورِ آرزو ، دَراَصل زِندگانی ہے
تمنا مرتی ہے تب اِنتقال ہوتا ہے
اَگر وُہ لب نظر آئیں تو زُلف بھی دیکھو
ہر ایک دانے پہ موجود جال ہوتا ہے
نگاہِ **قیس **سے دیکھو ، ہمیشہ لیلیٰ کو
صنم کسی کا بھی ہو ، بے مثال ہوتا ہے