ہجر کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے جائیے
ہجر میں کرنا ہے کیا یہ تو بتاتے جائیے
بن کے خوشبو کی اداسی، رہیے دل کے باغ میں
دور ہوتے جائیے، نزدیک آتے جائیے
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجیے مرا
یاد کا سر و ساماں بھی جلاتے جائیے
رہ گئی امید تو برباد ہو جاؤں گا میں
جائیے تو پھر مجھے سچ مچ بھلاتے جائیے
زندگی کی انجمن کا بس یہی دستور ہے
بڑھ کے ملیے اور مل کر دور جاتے جائیے
آخری رشتہ تو ہم میں اک خوشی اک غم کا تھا
مسکراتے جائیے ، آنسو بہاتے جائیے
وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی
اس گلی میں جائیے تو لڑکھڑاتے جائیے
آپ کو جب مجھ سے شکوہ ہی نہیں کوئی تو پھر
آگ ہی دل میں لگانی ہے، لگاتے جائیے
کوچ ہے خوابوں سے تعبیروں کی سمتوں میں تو پھر
جائیے پر دم بہ دم برباد جاتے جائیے
آپ کا مہمان ہوں میں ، آپ میرے میزبان
سو مجھے زہرِ مروت تو پلاتے جائیے
ہے سرِ شب اور مرے گھر میں نہیں کوئی چراغ
آگ تو اس گھر میں جانانہ، لگاتے جائیے
Re: آگ تو اس گھر میں جانانہ، لگاتے جائیے
Janay wala agar itni baten sun sakta, to jata hi kiyun?
BTW Nice sharing. I like these lines:
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجیے مرا
یاد کا سر و ساماں بھی جلاتے جائیے
Re: آگ تو اس گھر میں جانانہ، لگاتے جائیے
Thanks for sharing:)
Re: آگ تو اس گھر میں جانانہ، لگاتے جائیے
وہ گلی ہے اک شرابی چشم کافر کی گلی
اس گلی میں جائیے تو لڑکھڑاتے جائیے
:D