تری زلف کے سائے لہرا رہے ہیں

**تری زلف کے سائے لہرا رہے ہیں
محبت کے غم پرورش پا رہے ہیں

ذرا اک تبسم کی تکلیف کرنا
کہ گلزار میں پھول مرجھا رہے ہیں

ہماری فقط اتنی تقصیر ہے نا !
کہ ہم آپ پر جان چھڑکا رہے ہیں

ابھی کیا دکھائیں گے صورت تمہاری
ابھی آئینے آپ غش کھا رہے ہیں

پری زاد انگڑائی کی لہر میں ہیں
کہ حیرت کدے رنگ برسا رہے ہیں

ترے نین کیسے نشیلے نشیلے !
خطابات تقسیم فرما رہے ہیں

ابھی دل میں بسنے سے ڈرتے ہیں شائید
کبھی آرہے ہیں کبھی جا رہے ہیں

محبت عدم وہ شوالا ہے جس میں
بشر ہنس رہے ہیں، خدا گا رہے ہیں

Copy From: www.geomaza.com
**

Re: تری زلف کے سائے لہرا رہے ہیں

:hinna:
bhai link post karna mana hay :nahi:

Re: تری زلف کے سائے لہرا رہے ہیں

:k: