مرا دل عشق میں آوارہ ہے، آوارہ تر ہوجائے

**مرا دل عشق میں آوارہ ہے، آوارہ تر ہوجائے
مرا تن غم سے بے چارہ ہوا، بے چارہ تر ہوجائے

اگر مجھ کو دعائے خیر دینی ہے تو کہہ زاہد
کہ وہ آوارہء کوئے بتاں آوارہ تر ہو جائے

مرا دل پارہ پارہ ہے، نہیں امّید بہتر ہو
اگر جاناں اسی میں شاد ہے تو پارہ تر ہو جائے

سبھی کہتے ہیں خونخواری سے اُسکی خلق عاجز ہے
میں کہتا ہوں وہ میری جان پر خونخوارہ تر ہو جائے

دو چشمِ تر سے خسرو کو ہوئی تر دامنی کی خُو
برستی آنکھ سے دامن مگر ہموارہ تر ہو جائے**

Re: مرا دل عشق میں آوارہ ہے، آوارہ تر ہوجائے

khunkhawar :eek: