http://natamam.com/Columns/Haroon_ur_rasheed/yom_e_nijat_tak
[RIGHT]
[/RIGHT]
[RIGHT]نجات تب ملے گی ، امریکی افواج جب افغان سرزمین سے نکل جائیں گی ۔ یہ تبھی ممکن ہوگا ، جب انحصار کی نفسیات سے ، خوئے غلامی سے ہم چھٹکار اپائیں ۔یومِ نجات تک جذبہئ شوق ، جراتِ عمل اور امید ہی ہمارا آسرا اور ہمارا اسلحہ ہونا چاہئے۔
طالبِ علم نے ڈاکٹر صفدر محمود سے سچ کہا : عالمِ اسلام کو ایک کے بعد دوسرے چیلنج کا سامنا کرتے صدیاں گزر گئیں اور حریف کے لیے اس نے کبھی کوئی چیلنج پیدا نہ کیا۔ اداسی اپنی جگہ اور اداسی اکثر تخلیقی ہواکرتی ہے ،موزوں تھا کہ ڈاکٹر صاحب اسے داد دیتے۔۔۔اور ہم سب کو زیبا یہ ہے کہ اس نادر نکتے پر غور کریں۔ہر دانا آدمی پر کبھی نہ کبھی انکشاف ہوتا ہے کہ زندہ آدمی وہ ہے جو پیش قدمی کا اہل ہو۔ رسولِ اکرم(ص) کا یہ قول بارہا عرض کیا کہ زندگی پر سوار ہو جائو ، ورنہ وہ تم پر سوار ہو جائے گی۔ کشمیر کے فقیر منش رہنماچوہدری غلام عباس نے ، قائداعظم(رح) جن سے ہمیشہ مطمئن رہے، یہ کہا تھا"زندگی کو ماتھے کے بالوں سے پکڑنا چاہئے"قرآنِ کریم کی ہر آیت میں دانش کے خزانے ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے" ہم نے آدمی کو اس کے ماتھے سے تھام رکھّا ہے"۔۔۔فور برین، انسانی ذہن کا وہ حصّہ جو خیال کا تجزیہ کر کے حکم صادر کرتا ہے۔ آپ اکثرمختصر سی بات کہتے کہ جامع کلمات کے حامل ہیں لیکن قدرے ایک طویل قول میں عالی مرتبت (ص) نے اپنے اندازِ فکر و عمل کو بیان کیا تو یہ بھی کہا تھا"شوق میری سواری ہے"۔۔۔ شوق کیا ہے؟ پیش قدمی ۔
شوق ہو راہنما تو کوئی مشکل ہی نہیں
شوق مشکل سے مگر راہنما ہوتا ہے
زندگی مجبوری کا نام نہیں کہ آدمی مسائل اور فرائض کے بوجھ تلے سسکتا رہے۔ فرمایا: اللہ کسی ذی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ تخلیق کرنے والے رب نے آدمی کو اسی لیے دنیا میں بھیجا اور حیات و کائنات کا محور و مرکز بنایا کہ آزمائش سے دو چار کرے۔ "خوف ، بھوک اور دی گئی دولت کے نقصان سے ہم تمہیں آزمائیں گے "اور یہ کہ صبر شکر اور حسنِ عمل کے حامل ہی کامران قرار پائیں گے ۔ابھی یہ سطور لکھی تھیں کہ موبائل فون پر پیغام ملا۔
"حقیقی موت امید کی موت ہے "نپولین
“مردانِ کار خود سختیاں برداشت کرتے ہیں اور چھوٹے لوگ دوسروں کو سختی میں مبتلا کرتے ہیں” کنفیوشس
کوئی ڈھنگ کی بات سنے تو آدمی کا ذہن اپنے ہیرو کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ قائدِ اعظم (رح) کے بارے میں ، میں نے سوچا کہ کتنی صعوبتیں انہوں نے سہیں لیکن امید سے کم ہی دستبردار ہوئے اور اپنے مقصد سے تو کبھی نہیں۔ 1937ئ میں وہ ٹی بی کا شکارہوئے اور گیارہ برس تک رہے۔ خود ترحمّی اور رعایت کی آرزو دور کی بات ہے، اپنے درد کا تذکرہ تک کبھی نہ کیا۔ مسلم تاریخ میں ان سے ملتی جلتی مثال صلاح الدین ایوبی (رح) ہیں۔ مورخ نے لکھا ہے کہ عکّہ کی تین سال تک جاری رہنے والی خوفناک جنگ کے دوران وہ علیل رہے۔ ان کا حریف برطانیہ کا رچرڈ بیمار ہوا تو علاج میں اعانت کے لیے طبیب بھیجا ۔ خود اپنا حال یہ تھا کہ نقاہت میں سہارا دے کر گھوڑے پر سوار کئے جاتے اور سہارا دے کر اتارے جاتے ۔ کبھی کسی نے محسوس نہ کیا کہ سلطان کسی دوسرے جنگجو سے پیچھے رہے ہوں۔ فلسفی کنفیوشس کے قول کا کثرت سے حوالہ دیا جاتا ہے"تاریکی کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک ننھا سا دیا جلا دیا جائے"۔ ایک زمانے میں چینی مفکر کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ میرا تاثر یہ تھا کہ اس نے پیمبروں (ع)کی تعلیم سے استفادہ کیا اور انہی تعلیمات کے بل پر ایک جامع فلسفہئ حیات پیش کرنے کی کوشش کی ۔ اس تاثر کی بنیاد اخلاقی اقدار پر اس کا اصرار ہے ۔درویش نے کہا: وائٹ ہیڈ سے لے کر برٹرینڈرسل تک سیکولر فلسفیوں کو اخلاق سے کوئی تعلق نہیں ۔ سیکولر ازم انسانی حقوق، آزادی اور ذاتی مسرت پر زور دیتا ہے۔ آزادی اور مسرّت کے حصول کی آرزو میں ، مذہبی طبقے سے نجات کے نام پر ، وہ مذہب کی ردا ہی نوچ پھینکتا ہے۔۔۔اور آفتاب کی تمازت اور سرما کی وحشت کے لیے آدمی تنہا اور بے بس رہ جاتا ہے۔ اللہ کے وجود پر یقین اور توکّل نہ ہوتو امید باقی نہیں رہتی۔ امید نہ ہو تو ایثار کا سوال ہی نہیں اور ایثار کے بغیر معاشرہ یکجا نہ رہے گا۔ انارکی اور انتشار میں مبتلا ہو کر بکھر جائے گا۔ زندگی بین کرے گی۔ مفلس ہو جائے گی اور کیکر کے درخت میں الجھی پرانی دھجیوں جیسی ہو جائے گی۔ کانٹوں اور آندھیوں کے رحم و کرم پر ۔ بے رنگ ، بے معنی اور قابلِ رحم۔
پاکستان ایسی کسی مصیبت میں مبتلا نہیں ، جس کا علاج ممکن نہ ہو۔ کہنے والے کہیں گے کہ مرض مزمّن ہے۔ مسائل پیچیدہ ہیں۔ فیصلہ کرنے والے دانش و دانائی ، جراَت و جسارت اور علم و فضل سے محروم ہیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ قومیں تبھی زندہ ہوتی ہیں ، جب ان کا وجود خطرے سے دوچار ہو اور جیسا کہ کئی بار عرض کیا بحرانوں میں مواقع چھپے ہوتے ہیں۔ بیس برس ہوتے ہیں، راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے، میں شیخو پورہ کے ریلوے سٹیشن پر اترا۔ ڈسٹرکٹ ہسپتاک میں ایک محترم معالج سے ملنا تھا کہ طبیعت مسلسل ماند رہتی تھی۔ میں مسافر تھا اور بھوکا۔ وہ روزے سے تھے کہ رمضان المبارک کے مقدس دن تھے۔ بہترین کھانا پکوایا، ضیافت کی، معائنہ کیا اور یہ کہا"درد اور خون خدا کی رحمت کے مظہر ہیں۔ اگر نہ ہوتے تو آدمی علاج میں کوتاہی کرتے اور تباہ ہو جاتے"دانا آدمی کی بات پر بہت غور کیا۔ دو عشرے بعد کی صحت ، اس زمانے سے بہرحال بہتر ہے۔
پاکستانی قوم پر وہ کون سی افتاد آپڑی ہے ، دوسری اقوام کو جس سے واسطہ نہ پڑا۔ ہندوستان پر سات سو برس تک مسلمانوں اور دوصدیوں تک انگریزوں نے حکومت کی۔ برطانیہ کو رومن، نارمن اور وائی کنگ حملہ آور پامال کرتے رہے۔ ان پر تو وہ ادوار بھی گزرے کہ دلہن کو گھر جانے سے پہلے ، ایک شب جاگیردار کے ہاں بسر کرنا ہوتی۔ چین ، آسٹریلیا ، روس اور وسطی ایشیا کا قتلِ عام اور دو عالمگیر جنگوں کی ہولناک خوںریزی ابھی کل کی بات ہے۔ قوموں کے امتحان ان کی اپنی حماقتوں کے طفیل ہوتے ہیں۔اس لیے اتارے جاتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں اور تضادات کو تجزیہ کر کے زندگی کو سرخرو کرنے کی تدبیر کریں، انسانی معاشرہ ورنہ جنگل سے بدتر ہو جائے۔
جنگ کے ہنگام ہم منتشر ہیںاور جنگ کھیل نہیں ہوتی۔ یہ خوئے غلامی ہے ، یہ انحصار کی نفسیات ہے ، جس نے ہمیں برباد کیا۔ سیاستدان خود غرض ہیں اور نالائق بھی۔ مذہبی سیکولر پر اور سیکولر مذہبی لوگوں پر دانت پیستے ہیں۔ جی نہیں آبرومندی کے ساتھ جینے اور آگے بڑھنے کے لیے باہمی مشاورت اور اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اتفاقِ رائے تشکیل دے کر اگر ہم اپنی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر سکے تو انشا ئ اللہ ایک دن دستور کی حکمرانی کا مرحلہ بھی طے کر لیں گے۔مہذب معاشرہ بنیں گے۔ اللہ کا شکر ہے کہ عدلیہ آزاد ہے، ذرائع ابلاغ آزاد اور غلامی کے اثرات سے چھٹکارا پا کر عوامی اذہان غور و فکر کی طرف مائل ۔ تاریخ کہتی ہے کہ مکمل آزادی کی ابتدا ہمیشہ اسی طرح ہوتی ہے۔ نجات تب ملے گی ، امریکی افواج جب افغان سرزمین سے نکل جائیں گی ۔ یہ تبھی ممکن ہوگا ، جب انحصار کی نفسیات سے ، خوئے غلامی سے ہم چھٹکار اپائیں ۔اس یومِ نجات تک جذبہئ شوق ، جراتِ عمل اور امید ہی ہمارا آسرا اور ہمارا اسلحہ ہونا چاہئے۔[/RIGHT][RIGHT]
[/RIGHT]