عجب جنونِ مسافت میں گھر سے نکلا تھا
خبر نہیں تھی کہ سورج کدھر سے نکلا تھا
یہ کون پھر سے مجھے راستوں میں چھوڑ گیا
ابھی ابھی تو عذابِ سفر سے نکلا تھا
یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اُترا
کوئی تو حرف لبِ چارہ گر سے نکلا تھا
میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا
کہ دل کا زہر میری چشمِ تر سے نکلا تھا
وہ قیس اب جسے مجنوں پکارتے ہیں فراز
تیری طرح کوئی دیوانہ گھر سے نکلا تھا