سزا

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم
ہر بار تم سے مل کر بچھڑتا رہا ہوں میں
تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم
میں کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں
تم مجھ کو جان کر ہی پڑی عذاب میں
اور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں

تم جس زمیں پر ہو میں اُس کا خدا نہیں
پس سر بسر آذیت و آذار ہی رہو
بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم
جب بس میں کچھ نہیں تو بیزار ہی رہو
تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرض
تم اپنے حق میں پیچ کی دیوار ہی رہو

میں ابتداء عشق سے بے مہر ہی رہا
تم اِنتہاء عشق سے معیار ہی رہو
تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئی
اس رنگ اس ادا میں بھی پُرکار ہی رہو

میں نے یہ کب کہا تھا کے محبت میں ہے نجات
میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو
جب میں تمھیں نشاطٍ محبت نہ دے سکا
جب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیں
پھر مجھ کو چاہنے کا تمھیں کوئی حق نہیں
تنہا کراہنے کا تمھیں کوئی حق نہیں

Re: سزا

Nice.. :k: