*
این ار او کے دیکھو یارو کیسے رنگ نیارے ہیں
کل تک جیل کے اندر تھے جو حاکم آج ہمارے ہیں
بخش دیا ہے این آر او نے سارے چور لٹیروں کو
ملک میں کھلا چھوڑ دیا ہے ظالم گور اندھیروں کو
افراتفری ، بربادی کے سارے یہ ہرکارے ہیں
کل تک جیل کے اندر تھے جو حاکم آج ہمارے ہیں
مشرف جب الٹے سدھے آرڈیننس لگاتا تھا
اُس کا ہر اک چمچا کڑچھا تالیاں خوب بجاتا تھا
اب یہ مانیں یا نا مانیں ، ذمے دار تو سارے ہیں
کل تک جیل کے اندر تھے جو حاکم آج ہمارے ہیں
ٹکٹ جو لینا ہوگا اب آئندہ تو الیکشن کا
یہ بھی کالم بھرنا ہوگا اپنی اپلی کیشن کا
کتنے قتل کیے ہیں تم نے کتنے ڈاکے مارے ہیں
کل تک جیل کے اندر تھے جو حاکم آج ہمارے ہیں
ایسا یہ قانون ہے جس پہ حیران دنیا ساری ہے
آنے اور جانے والے کی بہت ہی پکی یاری ہے
خفیہ ہے یہ سمجھوتا جس کے یہ لشکارے ہیں
کل تک جیل کے اندر تھے جو حاکم آج ہمارے ہیں
*