اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بنائو گے

غزل

اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بنائو گے
رسوائی سے ڈرنے والو بات تمھی پھیلائو گے

اس کا کیا ہے تم نہ سہی تو چاہنے والے اور بہت
ترکِ محبت کرنے والو! تم تنہا رہ جائو گے

ہجر کے ماروں کی خوش فہمی! جاگ رہے ہیں پہروں سے
جیسے یوں شب کٹ جائے گی، جیسے تم آجائو گے

زخم تمنا کا بھر جانا گویا جان سے جانا ہے
اس کا بھلانا سہل نہیں ہے خود کو بھی یاد آئو گے

چھوڑو عہدِ وفا کی باتیں، کیوں جھوٹے اقرار کریں
کل میں بھی شرمندہ ہوں گا ، کل تم بھی پچھتائو گے

رہنے دو یہ پند و نصیحت ہم بھی فراز سے واقف ہیں
جس نے خود سو زخم سہے ہوں اس کو کیا سمجھائو گے

احمد فراز

Re: اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بنائو گے

hijr k maaron ki khush fehmi,jaag rahy hen pehron sy

jesy yon shab kat jaaygi , jesy tum aajaaogy..............nice choice

Nice1 :)

Re: اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بنائو گے

nice 1 :)

Re: اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بنائو گے

S.786, shab-e-hijr aur koyal..

intekhaab ki pasandeedgi ka shukria....!

Re: اپنی محبت کے افسانے کب تک راز بنائو گے

nice :k:

Beautiful:)