*** تزکیہ نفس ***

بسم اللہ الرحمٰٰن الرحیم

[RIGHT]اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔وبعد!۔[/RIGHT]

[RIGHT]عزیز دوستوں!۔
نفس انسانی مختلف آلائشوں مثلا کفر و شرک، تکبر، حسد، شہوت اور تعصب و عصبیت وغیرہ سے بھرا پڑا ہے لہذا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد اور تمام کُتب سماویہ کے نزول کا ماحصل انسانی نفوس کا تزکیہ کرنا تھا یعنی انسانوں کو ان تمام آلائشوں اور کدورتوں سےپاک کرنا۔۔۔۔[/RIGHT]

[RIGHT]تزکیہ نفس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں سب سے طویل قسم کھائی تقریبا گیارہ چیزوں کی قسم کھائی بالفاظ دیگر گیارہ قسمیں کھانے کے بعد اللہ وحدہ لاشریک نے فرمایا کہ!۔[/RIGHT]

[RIGHT]یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا (الشمس ٩)۔۔۔[/RIGHT]

[RIGHT]اسی طرح سورۃ الاعلٰی میں بھی اللہ تعالٰی نے تزکیہ نفس کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی تھی یعنی ابراہیم اور موسٰی علیہم السلام کے صحیفوں میں تو معلوم ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام اور موسٰی علیہ السلام کی کتابوں میں بھی تزکیہ نفس پر زور دیا گیا تھا۔۔۔[/RIGHT]

[RIGHT]اسی طرح خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے دُعا مانگی تھی کہ!۔
اے ہمارے پروردگار! تو ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیتیں سنائے اور ان کو کتاب و حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے (البقرۃ ١٢٩)۔۔۔[/RIGHT]

[RIGHT]عزیز دوستوں!۔
اس دُعا نے بارگاہ الہٰی میں سند قبولیت حاصل کی اللہ وحدہ لاشریک نے فرمایا کہ!۔


وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا (الجمعۃ ٢)۔۔۔

**اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ!۔ **میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دُعا، سیدنا عیٰسی علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں (مسند احمد ١٢٧ جلد ٤)۔۔۔

اس آیت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تین ذمداریاں بیان کی گئی ہیں۔۔۔ پہلی ذمداری لوگوں کو اللہ کی آیات پڑھ پڑھ کر سنانا، تبلیغ کرنا چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبلغ اعظم تھے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی نصاب قرآن کریم تھا۔۔۔
دوسری ذمداری جو لوگ دعوت کے ذریعے اسلام قبول کرلیں ان کو قرآن و سنت کی تعلیم دینا چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معلم اعظم تھے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیمی نصاب قرآن و سنت تھا تیسری ذمداری تبلیغ اور تعلیم کا مقصد تزکیہ ہے۔۔۔چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرشد اعظم بھی تھے لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تزکیہ نفس کے لئے اعمال صالحہ، ادعیہ اور اذکار سکھائے جن کی تفصیل احادیث میں موجود ہے معلوم ہوا کہ تزکیہ نفس کے لئے قرآن و حدیث کی تعلیمات، مسنون دعائیں اور اذکار کافی ہیں لہذا پیری مریدی کی بیتعتیں، صوفیاء کے سلسلے، الا اللہ کی ضربیں، چلہ کشی اور مراقبے وغیرہ سب باطل ہیں۔۔۔[/RIGHT]

[RIGHT]اللھم آت نفسی تقواھا وزکھا انت خیر میں زکاھا انت ولیھا ومولاھا (آمین یا رب العالمین)۔۔۔[/RIGHT]

[RIGHT]وسلام۔۔۔[/RIGHT]