Three day fruit srike appeal on social media

There are posts circulating on social media on price hike of fruits during Ramadan… asking three day strike…
So that price go down.

Fruit vendor in Karachi is giving his side of story and educating that whole seller at Mandi are real crook… They are responsible of higher prices… we are so weak to resist against them…

Re: Three day fruit srike appeal on social media

In cities like Karachi, these strikes will never get successful. And somehow i feel 3 days will do nothing to the powerful mafia of the suppliers of fruits/vegetables cuz I believe thats where the price hike is coming from.

Re: Three day fruit srike appeal on social media

i doubt there is anything crooked here - ramzan time demand for fruit is high, supply isnt elastic, prices will rise. #freemarketeconomy](http://gupshup.org/gs/usertag.php?do=list&action=hash&hash=freemarketeconomy)

Re: Three day fruit srike appeal on social media

[RIGHT]**کراچی میں ہمارے محلے کے سامنے والے محلے میں ایک سبزی والا ہے۔ نام ہے ناصر سبزی والا۔ دو چیزیں اس کے پاس خاصے کی ہیں۔ نفاست اور دیانت۔
کچھ دوستوں کے ساتھ ناصر کی دکان کے پاس کھڑے تھے کہ ایک ٹی وی رپورٹر خدا کا قہر بن کر نازل ہوگیا۔ نازل ہوتے ہی کیمرے کی طرف منہ کیا اورسوکلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے لفظ اگلنے لگا,
“ناظرین جیسا کہ آپ کو پتہ ہے سبزی کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں لوگوں کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے ہم اس وقت ناظم آباد کی ایک مارکیٹ میں کھڑے ہیں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس دکان میں بھی ٹماٹر سونے کی ریٹ میں بیچا جا رہا ہے ہم ان سے پوچھیں گے کہ انہوں نے یہ قیامت کیوں مچارکھی ہے۔
جی بھائی صاحب آپ ذرا بتائیں لوگوں کو کہ ٹماٹر ایک سوبیس کا کیوں لگا رہے ہیں آپ”**ناصر نے رپورٹر کی سرگرمیوں کو درخورِاعتنا نہ سمجھا۔ وہ بدستور “جی باجی، ہاں بھائی جان یہ لو ایک سو پچاس ہوگئے، جی اماں آپ کا کیا ہے، لوکی ختم ہوگئی، ٹنڈے چلیں گے؟” میں لگا رہا۔
رپورٹر نے پھر آواز دی، بھائی جان آپ سے سوال کیا ہے۔ ناصر نے ترنت کہا، بھائی میرے یہ سبزی کی دکان ہے سبزی چاہیئے تو بتا، نہیں تو آگے بڑھ، پڑھی لکھی مخلوق سے کر سوال۔ رپورٹر نے کہا، آپ سبزی والے ہیں تبھی آپ سے پوچھ رہا ہوں۔
ناصر نے پان کی پچکاری مار کے ٹانگ تخت پہرکھی اور کہا،
دیکھ بھئی دو باتیں ہیں
ایک تو یہ کہ رات دو بجے اٹھتا ہوں۔ سبزی منڈی تم لوگوں نے شہر سے اٹھاکر وہ صومالیہ میں لے جاکر رکھ دی ہے۔ دو گاڑیاں بدل کر جاتا ہوں۔ دوسری گاڑی سے اتر کر پیدل رستہ ناپتا ہوں اور پتھر اٹھا اٹھا کر دس پندرہ کتوں کو ہش ہش کرکے منڈی پہنچتا ہوں۔ سبزی ڈھونڈ دھانڈ کے گدھا گاڑی پہ رکھتا ہوں۔ جہاں گدھے کا ایشٹیشن لگتا ہے وہاں سے رکشہ پکڑتا ہوں سیدھا گھر۔ میں اور میری بیمار بیوی دو گھنٹے بیٹھ کر سبزیاں دھوتے ہیں۔ چالیس چیزیں اس میں سے سڑاندی نکلتی ہیں وہ ایک طرف پھینک دیتے ہیں۔ ایک گھنٹہ سوتا ہوں۔ ناشتہ کرتا ہوں اور یہاں آکر شٹر اٹھادیتا ہوں۔ اب جو ٹماٹر میری تھکن اور محنت وغیرہ کو ہٹاکر مجھے سیدھا سیدھا نوے میں پڑا ہے تجھے پچیس میں دے دوں.؟ کیوں بے، یہاں کوئی لنگر بٹ رہا ہے کیا؟

اور دوسری بات سن
یہ لے پانچ سو کا نوٹ پکڑ، تھپڑ ہے نا اگر تیرے سیٹھ میں تو یہ لے کرایہ میں دے رہا ہوں تو رکشہ پکڑ سیدھا منڈی جا اور حاجی عصمت کا انٹرویو کر۔ اسے گھیر کے بتاو تم لوگ ذرا مجھے۔ یہاں بغیر پوچھے بتائے ہم غریبوں کے ٹھیلے آکر گھیرلیتے ہو سالے جیسے دلی فتح کرلیا ہو ہاں نہیں تو۔

یہ ناصر سبزی والا مجھے ان دنوں غریب پھل فروشوں کا بائیکاٹ کرنے والی مہم سے یاد آیا:
دیکھیے، رمضان کا مہینہ ہے۔ آ پ کو لوڈ شیڈنگ کی شکایت ہے نا؟ پھل فروش کو یہ شکایت نہیں۔ کیونکہ وہ سڑک کنارے سوتا ہے۔ آپ مہنگا پھل خرید ہی رہے ہیں نا؟ پھل فروش یہی پھل آدھی قیمت میں خود نہیں خرید سکتا۔ یہ جو میری اور آپ کی گلیوں میں ہوکا لگاتے ہیں ان کے اپنے بچے پھلوں کے ذائقوں سے محروم ہیں۔ پھل مہنگا ہوتے ہوئے بھی آپ عید کی شاپنگ کرلیں گے،مگرمہنگا بیچ کر بھی پھل فروش عید کی خریداری نہیں کرپائے گا۔ کیلے کی قیمتیں بڑھانے میں ایک ریڑھی بان کو کتنی نفلوں کا ثواب ہے.؟ میٹر چڑھا کے بھی انہوں نے کتنے پلازے کھڑے کردیے؟ عید کے جن تین دنوں میں میں اور آپ عیش اڑائیں گے، ان تین دنوں میں بھی یہ آپ کو سڑکوں پر نظر آئیں گے۔ مڈل کلاس شہری کے لیے ایک دن کا ناغہ ناممکن ہوگیا ہے، ریڑھی والا چھٹی کیسے سہہ سکتا ہے۔ اپنے قسمت کو رونے والے پھل فروش کو اگر یہ علم ہوجائے کہ یہ سامنے ٹیوٹا کرولا میں جانے والے شخص نے میرے بائیکاٹ کی مہم چلا رکھی ہے تو قیامت نہ ہوگی؟

اس مہنگائی سے تنگ آکر روزے دار اگر خود سے یہ طے کرلیتے کہ ہم افطاری میں سموسے رول چنا چاٹ اور فروٹ چاٹ وغیرہ کی عیاشی سے کسی قدر ہاتھ کھینچتے ہیں، تو بات سمجھ آتی۔ مگرساری نسل کوباقاعدہ ایک خوانچہ فروش کے خلاف اکسانا کم ظرفی کی بات تو ہے ہی ایک احمقانہ اقدام بھی ہے۔ یہ اقدام انہی لوگوں کو راہ فرار مہیا کرے گا جو ذمہ دار ہیں۔
گھیرگھار کے بات منوانا بھی ایک طریقہ ہے، مگرناصر سبزی والے کا گھیراو کیوں؟ گھیراو ہی کرنا ہے تو حاجی عصمت کا کیجیے۔ مگر اس گھیراو کے لیے بھی اس رستے سے مت آیئے جس رستے میں کسی غریب کے خواب اور کچھ ارمان رکھے ہیں۔
کسی شکستہ سے خواب اور ادھورے سے ارمان کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔
اک ذرا دھیان سے!

---- Farnood Alam
[/RIGHT]