threads about ahmadi beliefs in religion forum

Who put this guy a Moderator? I seriously demand for this guy to be taken off? A bias person cannot be a Moderator.

I guess the chap or his family or whoever reported the incident to him saw whole thing with his eyes and reporting this back. I think you should say this as well with your post to give it more credibility.

Please read follwoing as an answer to this:

[RIGHT]وفات پر اعتراض کا جواب[/RIGHT]

[RIGHT]راشد علی اور اس کا پیر اپنی ’’ بے لگام کتاب‘‘ میں لکھتے ہیں ۔[/RIGHT]

[RIGHT]’’موت کا شکنجہ :۔

’’بالاخر مخالفین کی ہزرہ سرائیوں سے تنگ آکر مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں دعا کی کہ اگر جھوٹے مفتری ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہیضہ اور طاعون سے موت دے دے۔ چنانچہ یہ دعا مقبول بارگاہ ایزدی ہوئی اور ایک سال بھی گزرنے نہ پایا کہ مرزا صاحب بآد حسرت ویاس اپنی منہ مانگی موت یعنی ہیضہ کا شکار ہو کر چل بسے۔ مرتے وقت کلمہ تک نصیب نہ ہو سکا۔ زبان سے جو آخری الفاظ نکلے وہ یہ تھے

’’ میر صاحب (مرزا صاحب کے خسر) مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔

(حیاتِ ناصر مرتبہ شیخ یعقوب علی قادیانی صفحہ ۱۱۴)‘‘

یہ بھی حسبِ معمول راشد علی اور اس کے پیر کی خیرہ سری ہے جو انہیں بار بار جھوٹ کی لعنت کا مورد بناتی ہے۔

i:۔ وصال کا سبب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس درد اور کرب کے ساتھ اسلام پر حملوں کے دفاع میں مصروف تھے۔ اس کے لئے دن رات کی علمی محنتِ شاقّہ ، آرام میں کمی اور غذا کی طرف سے لاپرواہی کے نتیجہ میں آپ کو اعصابی کمزوری کی وجہ سے اسہال کا مرض اکثر ہو جاتا تھا ۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ جس صبح حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی ہے اس سے ملحقہ کئی دن آپ مسلسل دن رات تحریر وتقریر میں مصروف رہے حتّٰی کہ وفات سے بیس گھنٹے قبل بھی آپ نے لاہور میں صاحبِ علم افراد کے سامنے ایک طویل تقریر فرمائی ۔اس کی وجہ سے آپ کو اعصابی کمزوری لاحق ہوئی پھر رات کو اسی وجہ سے اسہال بھی آئے۔ اس کیفیت کا ہیضہ سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔ نہ ہی روایات میں ڈاکٹروں کی طرف سے اس کا ذکر ملتا ہے۔

حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی صرف ایک روایت ہے جو حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے مکذّبین ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ گویا آپ کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے دعوٰی میں صادق نہ تھے۔

حقیقتِ حال یہ ہے کہ حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ واقعۃً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وبائی ہیضہ ہو گیا تھا بالکل غلط بات ہے۔ اس فقرے کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر صاحب سے استفسار کیا کہ ’’ مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے ؟ ‘‘ اور محض پوچھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ واقعۃً وہ بات ہو بھی گئی ہو۔[/RIGHT]

Read further by clicking here.