The will of the people.

Mesmerizing.

So as a nation we saw most shameless politician giving in to will of the people.
Then army came to its knee when it saw increasing discontent between people.

Now none other then Taliban are giving in.

Its surprising to see every entity we thought was soul less is so vulnerable to some thing so integrable some
thing so refined. They all are just little grade 4 school girls :aisha:

Its very mesmerizing to see after all hardest nut to crack in pakistan is still common people :phati:

Re: The will of the people.

طالبان اور میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے بی بی سی اردو کو بھیجے گئے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے ایک ’چھوٹے سے واقعات کو بڑھا چڑھا کر‘ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف ’زہریلہ‘ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
عید کے موقع پر چار منٹ لمبے اپنے پیغام میں حکیم اللہ محسود نے کہا کہ مسلم دنیا تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔
اسی بارے میں

انہوں نے کہا کہ مغرب کبھی اسلام مخالف کارٹونوں اور کبھی فلموں کی آڑ میں مسلمانوں کو اشتعال دلاتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت سے بے اطمینانی کا اظہار کیا اور اسے سیکولر کہا۔
انہوں نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں پر حملے کر کے ان کا الزام طالبان پر لگا دیتے ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جا سکے۔ ’لہذا کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے طالبان کے موقف کا انتظار کیا کریں۔‘**
سینئر صحافی اور قبائلی امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے پر ردِ عمل نے طالبان کو پریشان کر دیا ہے۔ وہ ایک مرتبہ پہلے بھی اس معاملے پر وضاحت دے چکے ہیں۔ اور اب کی بار کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے خود بھی وضاحت کی ہے۔**
کلِک رحیم اللہ یوسفزئی سے بات چیت](http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/10/121027_rahimullah_twoway_ra.shtml)
بی بی سی اردوکے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ’عوامی رائے کی تو شاید طالبان کو ابھی بھی پرواہ نہ ہو لیکن وہ اپنے حامی اسلامی گروہوں کی ناراضی دور کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ طالبان کے لیے ہمدردی رکھنے والوں نے بھی اس حملے پر تنقید کی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے آئی ایس آئی پر تنقید کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عام لوگوں کی ہلاکت پر ہمیشہ طالبان لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ ملالہ پر حملے کی ذمہ داری چونکہ طالبان قبول کر چکے ہیں اس لیے اس کا الزام وہ کسی کو نہیں دے سکتے۔

Re: The will of the people.

Post 2 is clear. There is an immediate need for translation of 1st post.