The US and Pakistan

Re: The US and Pakistan

ميرا آپ سے ايک سوال ہے۔ کيا 80 کی دہائ ميں جب امريکہ افغانستان میں سويت فوج کے مقابلے ميں مجاہدين کی مدد کر رہا تھا تو کيا پاکستان ميں امريکہ مخالف جذبات کی شدت ميں کوئ کمی آئ تھی؟ جہاں تک مجھے ياد پڑتا ہے سب سے مشہور امريکہ مخالف نعرہ “امريکہ کا جو يار ہے – غدار ہے، غدار ہے” اسی دور ميں منظر عام پر آيا تھا جب امريکہ ايک جارح فوج کے مقابلے ميں ايک مسلمان ملک کی مدد کر رہا تھا۔

**جہاں تک آپ کا يہ سوال ہے کہ پاکستانی امريکہ سے نفرت کيوں کرتے ہيں تو اس کے ليے آپ پاکستان کی کسی بھی سياسی جماعت کی اعلی قيادت کا جائزہ لےليں، وہ ہر پبلک فورم اور ہر عوامی اجتماع ميں “امريکہ سے نفرت” کا ٹکٹ ضرور استعمال کرتے ہيں ليکن اس کے باوجود اپنے اور اپنے خاندان کے ليۓ وہ تمام آسائشيں ضرور سميٹتے ہيں جو امريکی معاشرہ اپنے ہر شہری کو ديتا ہے۔ امريکہ سے نفرت کے يہ نعرے محض عوام کی توجہ اپنی ناکاميوں سے ہٹانے کے ليے تخليق کيے جاتے ہيں۔ کسی بھی قوم کی تقدير کے ذمہ دار “بيرونی ہاتھ” نہيں بلکہ اس ملک کے سياستدان ہوتے ہيں جو اسمبليوں ميں جا کر قآنون سازی کے ذريعے اس ملک کی تقدير بناتے ہيں۔ **

يہی وجہ ہے کہ 1985 سے لے کر اب تک آپ کوئ بھی اسمبلی اٹھا کر ديکھ ليں، کوئ بھی سياسی جماعت اپنے کسی منشور، پروگرام اور عوامی بہبود کے کسی منصوبے کے ليے عوام کے سامنے جوابدہ نہيں کيونکہ تمام تر مسائل کا ذمہ دار تو امريکہ ہے۔

اور يہ بھی ايک حقيقت ہے کہ امريکہ سے نفرت کرنے سے پہلے آپ کو وہ تمام مالی امداد نظرانداز کرنا ہو گی جو امريکہ نے پچھلے 60 برسوں کے دوران تعمير وترقی کے ضمن ميں پاکستان کو دی ہے۔ اسی طرح سال 2005 کے زلزلےاور 2010 کے سیلاب کے بعد امريکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد، فوجی سازوسامان اور سکالرشپس بھی نظر انداز کرنا ہوگی۔ يقينی طور پر اگر آپ ان تاريخی حقائق کو نظرانداز کر ديں تو پھر امريکہ سے نفرت کرنے ميں حق بجانب ہيں۔

ذوالفقار – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

[EMAIL=“[email protected]”][email protected]
www.state.gov
USUrduDigitalOutreach - Government Organization - Washington, DC | Facebook