Truths about 16 November Conference so called “DEFAH-E-PAKISTAN”:
اس مضمون کو پڑھ کرجہاں پاکستانی سیاست کے میدان میں کھیلے جانے والے ڈرامہ کی حقیقت پتہ چلی ہے، وہاں 40 سے زائد مذہبی وسیاسی جماعتوں پر مشتمل دفاع پاکستان کونسل کے اصل ایجنڈے کی پہچان ہوئی ہے کہ وہ کس طرح اسلام کا نام لیکر کفری جمہوریت اور امریکہ کے ایجنٹ ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور اسلامی شریعت کے نفاذ کو رکوانے کے لیے سرگرم ہیں۔
اگر ان کے دلوں میں تھوڑی بہت بھی اسلام کی محبت اور قدر ہوتی تو یہ ’’دفاع پاکستان کونسل‘‘ کی بجائے ’’دفاع اسلام کونسل‘‘بناتے اور ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کا دفاع اور امیج بہتر بنانے کی بجائے ان کی طرف سے ملک بھر میں اسلام اور مجاہدین کیخلاف جاری جنگ کو رکواتے اور اللہ کی زمین پر شریعت اسلامی کو نافذ کرنے کے لئے جدوجہد کرتے۔ لیکن ان کے نزدیک اسلام کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اسلام وشریعت کو تو ان کے پاس اتنا مقام بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے نفاذ اور مجاہدین اسلام کیخلاف ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کی جانب سے کئی سالوں سے جاری جنگ کو رکوانے کے لیے کوئی عملی اقدام کرتے۔ عملی اقدام کرنا تو دور کی بات کبھی انہوں نے اسلام کیخلاف ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کی طرف سے ہونے والے جرائم پر مذمتی بیان تک جاری کرنا گوارا نہیں کیا اور نہ ہی اپنے آقاؤں سے اسلام کیخلاف جاری جنگ کو رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام کے نفاذ اور مسلمانوں کیخلاف جاری جنگ کو تو ان کے نزدیک اتنی بھی حیثیت حاصل نہیں ہے ، جتنی بھارت کو پسندیدہ قراردینے کی اہمیت حاصل ہے،جس کی خاطر وطن پرستی سے لبریز بے فائدہ وبے مقصد جدوجہد اور ملک بھر میں ڈرامائی جلسے اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جارہاہے ۔
افسوس تو پاکستانی عوام پر ہیں جو اب تک اسلام کے نفاذ کی راہ میں موجود اصل رکاوٹ اور کفری نظام وافواج کا دفاع کرنے والی ان تنظیموں اور جماعتوں کی حقیقت کو پہچان نہ سکیں جو دین ودنیا دونوں کو برباد کرنے میں لگیں ہوئی ہیں اور ان کا مقصد صرف ناپاک فوج اور اس کی ایجنسیوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا اور پاکستانی عوام کی اصل مسائل سے توجہ ہٹاکر ان فرضی مسائل کی طرف متوجہ کرانا ہے، جو ان کے آقاؤں نے خودہی کھڑے کئے ہوتے ہیں اور پھر خود ہی انہیں ختم کردیتے ہیں۔
پاکستانی عوام اب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھ پائی،جو اوپر مضمون میں بیان ہوئی ہے کہ اسلام ہے تو پاکستان ہے۔ اسلام نہیں تو پاکستان کا تباہی وبربادی اور زوال پذیر ہونے سے بچنا ناممکن ہے۔ اس لیے اصل جدوجہد پاکستان کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کا دفاع کرنے اور اسے پاکستان میں نافذ کرنے کے لیے ہونی چاہئے۔ اس سے جہاں ہم مسلمانوں کی دنیا بہتر ہوگی وہاں ہماری آخرت بھی بہتر ہوجائے گی،خواہ پاکستان رہے یا نہ
رہے ۔ ہماری جدوجہد بھی رائیگاں نہیں جائے گی اور اس کا صلہ ہمیں آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ضرور ملے گا۔ ان شاء اللہ
some facts regarding 18th december “Defah-e-Pakistan” Conference in Lahore. (open your eyes) woe to those who attended it:
فاع پاکستان کونسل کے ۱۸ دسمبر کو مینار پاکستان پر ہونے والے جلسے میں سب سے بڑا کرتب اورمداری کی بہترین اداکاری شیخ رشید نے کی،جس نے شاید شراب پی ہوئی تھی اور اس کی گفتگو تمام کی تمام اس قدر منافقت
سے لبریز تھی کہ شیطان بھی اپنے آپ کو مومن سمجھنے اور اسلام کا وفادار ثابت کرنے لگے۔ لال مسجدپر حملہ آور اور معصوم بہنوں کا قاتل شیخ رشید نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ انہوں نے حافظ سعید کی بیعت کی ہے اور وہ نیا نیا حافظ سعید کا مرید ہوا ہے ۔ شیخ رشید نے اپنی گفتگو میں کھل کر کہا کہ پاکستان کو نہ ہندوستان سے خطرہ ہے اور نہ ہی امریکہ سے خطرہ ہے بلکہ اسے اندر سے (یعنی طالبان سے)خطرہ ہے۔ اس کونسل میں شریک اسلامی نظام کے سب سے بڑے دشمن اور لال مسجد وجامعہ حفصہ میں معصوم بہنوں کا خون گرانے والوں نے کن الفاظ پر لشکر طیبہ وجماعۃ الدعوۃ کے ریموٹ قائد کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔کیا ان لشکریوں میں سے کوئی جرأت کرسکتا ہے کہ یہ بتائیں کہ ایک مشرک محارب نے کن الفاظ کے ساتھ ان کے لیڈر امیر الفراڈ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور کن کیخلاف جنگ لڑنے کا عہد کیا ہے؟ کیا شیخ رشید اپنے پیر کے خیالات کو مانتے ہوئے داڑھی اور شلوار ٹخنے اوپر کرکے اپنا آپ کو لشکری بنالیگا یا پھر وہ یہ کام کیے بغیر ہی لشکر طیبہ کے پلیٹ فارم سے ایجنسیوں کے ایجنڈے اور اہداف ومقاصد کو پورا کرنے میں لگا رہے گا؟
اے لشکریوں! اے مشرک وزیروں اور ان کے حواریوں!اے لال مسجد کے قاتلوں کو اپنا رہنما اور مریدبنانے والو! سن لو!!!
اللہ تعالی جامعہ حفصہ کی بہنوں اور لال مسجد کا تقدس پامال کرنے والوں اور ان کے ایجنٹوں ودرباری علماء کو کبھی معاف نہیں کرےگا۔
لحمدللہ مجھے خوشی ہے کہ میں نے ان باطل تنظیموں کا بائیکاٹ کیا اور اب میری امیدیں صرف اللہ سبحانہ وتعالی سے وابستہ ہے۔اس کے بعد ان طالبان مجاہدین کے ساتھ وابستہ ہیں جو پاکستان میں امید کی کرن ہے اور جنہوں نے اپنی آخری بیان میں اعلان کیا ہے کہ ہم شہداء کے خون سے غداری نہیں کریں گے اور شہید کے ہر خون کے قطرے کا حساب ان ایجنسیوں اور ان کے نامراد آلہ کاروں سے لیں گے۔ اللہ ان کی مدد فرمائے۔ آمین
مجاہدین نے پاکستانی نظام اوران کی ظالم فورسزکے جرائم کو بھلایا ہے نہ کبھی بھلائیں گے۔ پاکستانی نظام اوران کی ظالم فورسز اب تک اسلام اورمجاہدین کیخلاف جنگ کو جاری رکھنے پرتلی ہوئی ہیں۔یہ صلیب اورامریکیوں کی مدد کرنے اور کفر وشرک کے جھنڈے کو بلندکرنے کے لیے طاغوت کی راہ میں لڑنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ مساجد اور مدارس کو شہید کرنے، اللہ کی زمین پراللہ کی شریعت کے نفاذکا مطالبہ کرنے والے مسلمانوں کیخلاف فوجی کارروائیاں کرنے، رات کے اندھیروں میں ان کے گھروں پردھاوے بولنے، پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنے، ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو ان کے اہل و عیال کے درمیان سے اچک لے جانے، انہیں اپنے عقوبت خانوں کے اندھیروں میں پھینک کر سخت اور تند خوجلادوں کے تشدد کے حوالے کرنے،مسلمانوں کے گھروں پر بمباریاں کرنے، ان کے اموال کی لوٹ کھسوٹ کرنے، ان کی عزتوں کو پامال کر نے اورہر اس سچے اور مومن شخص کے تعاقب کرنے میں مصروف ہیں جس نے اپنی زندگی اسلام اورمسلمانوں کی مدد کے لیے وقف کررکھی ہے۔
پس ان وجوہات کی بناپر ہم تحریک طالبان پاکستان والے اللہ کے دشمنوں کیخلاف بغیرکسی تھکاوٹ اور سستی کے جہادوقتال کو جاری رکھیں گے۔اسی طرح ہم پاکستانی حکومت، پولیس، فوج، سیکورٹی ایجنسیوں اوراسلام کیخلاف جاری اس حملے میں صلیبیوں اور مرتدین کی مدد کرنے والے ہرشخص کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔اس ذات کی قسم جس کے سواکوئی معبود نہیں! اے اللہ کے دشمنوں! ہمیں اس وقت تک سکون نہیں ملے گا اور نہ ہم چین سے بیٹھیں گے جب تک ہم تمہارے ہاتھوں سے گرنے والے مسلمانوں کے شہداء کے ہر خون کے قطرے کا انتقام نہیں لے لیتے،جب تک ہم تمہاری ظالمانہ جیلوں میں قیدتمام مسلم نوجوانوں اور مسلم عورتوں کو رہا نہیں کرالیتے، جب تک ہم اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کا انتقام نہیں لے لیتے،جنہیں تم نے بے گھرکیا،ان کی عزتوں کو پامال کیا،انہیں بے پردہ کیااورانہیں بغیر کسی ٹھکانے اور پناہ گاہ کے دربدرکیا،محض اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگارصرف اللہ ہے اوراسلام ومجاہدین کی مدد کی۔
پاکستانی مسلمانوں کیا تم جامعہ حفصہ میں گرنے والا خون بھول گئے ہو؟ کیا تمھاری بہنوں کا خون اس قدر سستا ہے کہ دونمبر دھوکے باز لوگ چند پر کشش کلمات کہہ کر تمہیں بیوقوف بناسکتے ہیں اور تم کو اپنے تمام جرائم بھلا کر اپنے پیچھے لگاسکتے ہیں۔یہ لوگ وطن سے محبت اور اس کے دفاع کے نام پر تمہارے دلوں سے اسلام دشمنوں کی نفرت نکالنا اوران کے جرائم بھلانا چاہتے ہیں؟ کیا تم اپنی عقلوں اورماضی کے تمام واقعات کو بھلاکران لوگوں کو اپنے سینوں سے لگاؤں گے اورجہاد کی پیٹھ میں خنجر گھونپوں گے۔ ہرگز نہیں !!! ہرگزنہیں!!!
یاد رکھنا یہ کل بھی اسلام کے غدارتھے اور آئندہ بھی اسلام کے غدار ہی رہیں گے۔ انہوں نے کل بھی امریکہ کا ساتھ دیا تھا اور لال مسجد میں شریعت کے نفاذ اور مساجد کے تحفظ کی بات کرنے والے بھائیوں اور معصوم بچیوں کا خون بہایا تھا اور آج بھی امریکہ کا ساتھ دینگے اور ان مسلمانوں کیخلاف جنگ کو جاری رکھیں گے جو پاکستان میں اسلام کا عملی نفاذ چاہتے ہیں۔
لال مسجد اور جامعہ حفصہ تم گواہ رہنا ۔ ہم نہ بابری مسجد کو بھولیں ہیں اور نہ ہی تجھ سمیت ان ۵۰۰ سے زائد مساجد ومدارس کو بھولیں ہیں جنہیں پاکستان کے اندر کفر اور ان کے آلہ کاروں نے شہید کیا۔ہمارا نعرہ ان لشکریوں کے بدعقائد کی طرح وطن پرستی کے تعصب سے لبریز یہ نہیں ہے کہ
بھارت سے رشتہ کیا نفرت کاانتقام کا
پاکستان سے رشتہ کیا محبت کاقربانی کا
ہمارا نعرہ خالص اسلامی اور ایمان سے لبریز ہے، جو یہ ہے
کفروشرک سے رشتہ کیا نفرت کا انتقام کا
اسلام سے رشتہ کیا محبت کا قربانی کا
ہمارے دشمن سب ایک ہیں، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا بھارت یا دنیا کے کسی خطے میں کیونکہ ہمارا اسلام ان لشکریوں والا اسلام نہیں ہے بلکہ قرآن وحدیث پر مشتمل ایک اسلام ہے جو ہمارے نبی محمدﷺ کی زندگی میں ہی
مکمل ہوچکا ہے اور اب اسے دنیا کے کسی مفاد یا ایجنسیوں کی خاظر تبدیل نہیں کیا جاسکتااورنہ جھوٹی عزت وشہرت کے لیے کبھی کسی کو دوست اور کبھی کسی کو دشمن بنایا جاسکتاہے۔
مسلمانو! قرآن وسنت کو مضبوطی سے پکڑو۔ یہی تمہاری نجات اور کامیابی کا راستہ ہے۔ ورنہ تم ان دونمبر اور پرکشش دھوکے باز رہنماؤں کے پیچھے لگ کر اپنی دنیا وآخرت دونوں کو برباد کربیٹھوں گے۔ اللہ صرف اس اسلام کو قبول کرے گا جو قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ اس اسلام کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ان رہنماؤں اور قائدین کا ہے، جو آئے روز ایجنسیوں کے مفادات اور دنیوی مقاصد کی خاطر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
اے اللہ! ہمارے گناہوں کو معاف کرنا اور ہمیں بخش دینا کہ ہم نے ان لشکریوں جیسے دھوکے بازوں کی باتوں میں آکرجامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کو بھارتی ایجنٹ، گمراہ اور اسلام سے خارج سمجھتے ہوئے ناپاک فوج کی طرف سے لال مسجد اورجامعہ حفصہ پر حملے کے وقت ان کا بائیکاٹ کیا اور اپنے گھر میں ہی بیٹھیں رہی۔اے اللہ ! ہم اپنے گناہ پر شرمندہ ہیں۔ اے اللہ تو ہمیں معاف فرمادے اور ہم سب کو ہدایت سے نوازدے ۔ آمین
please protect your eman and dont follow the call of these munafiqeen. Instead Follow the call of the true mujahideen(AL-QAEDA AND TALIBAN) who are doing the true jihad. May Allah protect them all
Ameen