طنز و مزاح
[RIGHT]اکبر الہٰ آبادی کاتبوں کی ’’غلط نوازیوں‘‘ سے بہت دل برداشتہ خاطر رہتے تھے۔ مولانا ظفر الملک علوی (ایڈیٹر ماہنامہ الناظر) کو ایک خط (مطبوعہ الناظر، یکم جنوری ۱۹۱۰ میں تحریر فرماتے ہیں۔
’’اپنے مسودار خود نہیں پڑھ سکتا۔ کاتب کو ہدایت میں نہایت دقت ہوتی ہے۔ کاتب صاحب ایسے ’’ذی استعداد‘‘ ہیں کہ ’’کونسلوں میں سیٹ‘‘ کو ’’گھونسلوں میں بیٹ‘‘ لکھ دیتے ہیں۔‘‘
[/RIGHT]
Restored attachments:
Re: tanz-o-mazah
خوش فہمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مینڈک نے نجومی سے اپنے مستقبل کے بارے میں پوچھا تو نجومی نے بتایا۔ ’’تمہیں ایک لڑکی ملے گی جو تمہارا دل لے جائے گی۔‘‘
مینڈک نے خوشی سے بے قابو ہوکر کہا۔ ’’وہ کہاں ملے گی؟‘‘
’’بائیولوجی لیب میں۔‘‘ نجومی نے جواب دیا۔
Restored attachments:
Re: tanz-o-mazah
طنز و مزاح
رات کے ۳ بجے مزمل صاحب کے ہاں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ’’میں آپ کا پڑوسی مہربان علی بول رہا ہوں۔ آپ کا کتا آج شام سے بھونکے جارہا ہے۔ اس کی وجہ سے میں آج رات ایک لمحے بھی نہیں سوسکا۔ اگر آپ نے اسے چپ نہیں کرایا تو میں آکر اسے گولی ماردوں گا۔‘‘
دوسری رات عین اسی وقت مہربان علی کے گھر کی فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب مزمل صاحب خوشگوار لہجے میں بولے۔ ’’میں نے یہ بتانے کے لئے فون کیا ہے کہ میرے ہاں کوئی کتا نہیں ہے۔‘‘
Restored attachments: