talab-e-ishq miTa di hum nay

طلبِ عشق مٹادی ہم نے
اُس کو روکا نہ صدا دی ہم نے
خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے
راکھ راہوں میں اڑا دی ہم نے
(شگفتہ شفیق)