[RIGHT]٭٭ کرینہ کے بیٹے کے نام ‘تیمور’ پر انتہا پسند ہندوؤں کی ہنگامہ آرائی ٭٭
انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ تیمور لنگ نے لاکھوں ہندوؤں کو قتل کر ڈالا، اس لیے کرینہ کو اپنے بیٹے کا نام تیمور نہیں رکھنا چاہیے۔
لیکن درست بات یہ ہے کہ:
(1) اس وقت دہلی میں مسلمان سلطان ہی حکومت میں تھا اور تیمور کی فوجوں سے لڑنے والے ہندو اور مسلمان دونوں تھے۔ یقینی طور پر تیمور نے دہلی کی آبادی کا قتل عام کیا۔
(2) ہندوؤں سے زیادہ قتل تیمور نے مسلمانوں کا کیا ہے۔ انڈیا میں تیمور صرف شمالی ہندوستان (یعنی دہلی) تک پہنچا، لیکن اس کی زندگی کا بقیہ حصہ مسلمان علاقوں میں حملے کرتے ہوئے ہی گذرا۔
(3) تیمور نے عین اس وقت پر ترکی کی خلافت پر حملہ کر دیا جب ترکی امیر المومنین بایزید قسطنطنیہ کو تقریبا فتح کر چکے تھے۔ لیکن تیمور کی وجہ سے بایزید کو قسطنطنیہ کی مہم کو ادھورا چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ جنگ میں بایزید کو شکست ہوئی اور تیمور نے بایزید کو سونے کے پنجرے میں بند کر دیا اور جہاں تیمور جاتا تھا، وہیں بایزید کو پنجرے میں بند کر کے اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔
مسلمان محمود غزنوی کو اپنا ہیرو مانتے ہیں، لیکن تیمور کے نام سے خود مسلمان بدکتے ہیں۔
(4) اس میں کوئی شک نہیں تیمور بہت بڑا فاتح تھا، بہت عقلمند تھا، اور بہت ہوشیار تھا۔ بطور فاتح اسکا موازنہ اشوکا اعظم سے کیا جا سکتا ہے (بدھسٹ مذہب قبول کرنے سے قبل کے اشوکا اعظم سے)۔
بلکہ شاید زیادہ بہتر موازنہ سکندرِ اعظم سے کیا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی بہت بڑے فاتح تھے۔ سکندر نے بھی انسانیت کے نام پر نہیں، بلکہ اپنی سلطنت کے نام پر انسانوں کا خون بہایا۔ لیکن آج پورا یورپ اسکے انسانی جنگی جرائم کو بھلا کر اسکی بہادری کی وجہ سے اسے یاد کرتا ہے اور پورے یورپ میں بچوں کے نام Alexander رکھے جاتے ہیں۔
(5) چنانچہ ناموں میں واقعی کچھ نہیں رکھا ہے۔
اگر ہندوؤں کا بھی کوئی ایسا ہی فاتح راجہ ہوتا، جس نے مسلمانوں پر چڑھائیاں کی ہوتیں، تو جنگی جرائم کے باوجود یہی انتہا پسند ہندو بھی اسکی تعظیم کر رہے ہوتے اور اس کے نام پر اپنے بچوں کے نام رکھ رہے ہوتے۔
کالی دیوی بھی کوئی اچھا کردار نہیں ہے اور تباہی کا آئینہ دار ہے، لیکن اس کی طاقت سے لوگ مرعوب ہیں اور کالی کے نام پر ہندو اپنے بچوں کے نام بھی رکھتے ہیں۔
(6) تیمور کے سب سے چھوٹے بیٹے کا نام شاہ رخ تھا جو تیمور کے مرنے کے بعد اس کا جانشین بنا۔ شکر ہے ہندوؤں کو اسکے متعلق اتنا علم نہیں، ورنہ شاہ رخ خان ایکٹر کے لیے بھی مصیبت کھڑی ہو جاتی۔
(7) تیمور ایک خوبصورت نام ہے جس کا ترکش زبان میں مطلب ہے “لوہا”۔ یہ نام تیمور لنگ نامی بادشاہ سے کہیں پہلے سے چلا آ رہا ہے اور تیمور لنگ کا اس نام پر کوئی کاپی رائیٹ نہیں ہے۔
چنانچہ انتہا پسند ہندوؤں کو اس چیز کو کرائسز بنانا چھوڑ دینا چاہیے۔
[/RIGHT]
Daniyal Tamoori](انڈیا: کرینہ اور سیف علی خان کے نوزائیدہ بیٹے کے نام پر تنازع - BBC News اردو)