Swat Video Of Taliban Beating Woman Is Not Fake, But Real

[font=“Tahoma”]**
ہماری عوام بہت جذباتی ہے کہ اسے آسانی سی بے وقوف بنا دیا جاتا ہے۔ میں نے اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگوں کو آسانی سی جذباتیت کی نظر ہوتے اور بے وقوف بنتے دیکھا ہے۔

اسی کی ایک واضح مثال طالبان کی خونی دہشتگردی کو ہر ہر موقع پر انڈین را کی کاروائیاں کہہ کر بے وقوف بنائے جانا ہے۔

اور اسی کی ایک واضح مثال سوات ویڈیو ہے جس کے متعلق رائیٹ ونگ میڈیا نے ایسا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا کہ پورا ملک ہے ہی اس پر آنکھیں بن کر کے یقین کر بیٹھا۔

طالبان کو ختم کرنے سے پہلے شاید قوم کو اس رائیٹ ونگ میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈہ کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک یہ کھل کر جھوٹی ڈس انفارمیشن پھیلا کر قوم کو گمراہ کرتے رہیں گے اور طالبان کے جرائم پر مختلف حیلوں بہانوں سے پردہ ڈالتے رہیں گے، اُسوقت تک طالبان کو نیست و نابود کرنے کے لیے قوم کبھی اکھٹی نہیں ہو سکتی۔**

**
سوات ویڈیو جعلی نہیں، بلکہ اُسے جھوٹا کہنے والے جعلی ہیں
**

خبر کا لنک:۔

search.jang.com.pk/details.asp?nid=425085

**
اب تک کی تفتیش کے مطابق کوڑے مارنے کی ویڈیو اصلی ہے، رحمن ملک

کراچی (ٹی وی رپورٹ) سوات میں پچھلے سال خاتون کو سرعام کوڑے مارے جانے کے بعد مالاکنڈ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ کسی غیر سرکاری تنظیم نے طالبان کو رقم دے کر یہ ویڈیو بنوائی تھی۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں کوئی ایسا شخص سامنے نہیں آیا جس نے یہ کہا ہو کہ عورت کو کوڑے مارے جانے کی ویڈیو جھوٹی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس میں دو واقعے ہیں ایک تو یہ کہ ویڈیو آئی اور لوگوں نے اسے اصلی سمجھا اور پھر خبر آئی کہ یہ ویڈیو غلط ہے اور یہ معاوضہ دے کر بنائی گئی ہے یہ دونوں چیزیں میڈیا سامنے لے کر آیا، میں نے آئی جی سے بات کی ہے اور ابھی تک کی تفتیش سے جو ویڈیو دکھائی گئی وہ اصلی ہے، جو بیان سامنے آئے ہیں ان میں ابھی تک کوئی شخص آگے نہیں آیا جس نے دعویٰ کیا ہو کہ یہ ویڈیو پیسے لے کر بنائی ہے۔ پاکستان کی ایک خبر رساں ایجنسی نے سوات کے ایک مقامی باشندے کے بارے میں خبر دی تھی کہ خاتون کو سرعام کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی تھی، خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سیکورٹی اداروں اور ایجنسیوں نے سوات اور کوہاٹ سے اس سلسلے میں گرفتاریاں بھی کی تھیں۔ ایجنسی کے مطابق گرفتار افراد نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اس عمل میں حصہ لیا ہے اور ایک غیر سرکاری تنظیم نے انہیں اس کام کیلئے پانچ لاکھ روپے فراہم کئے ۔ جیو ٹی وی نے اس سلسلے میں ڈی آئی جی کوہاٹ عبداللہ خان سے معلومات حاصل کیں تو انہوں نے کہا کہ سوات اور کوہاٹ سے کسی ایسے شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا کہ جس نے ایسی کوئی جعلی ویڈیو بنائی ہو یا اس میں ملوث رہا ہو۔ جیو نیوز نے جب ڈپٹی انسپکٹر جنرل مالاکنڈ قاضی جمیل سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ کسی غیر سرکاری تنظیم نے طالبان کو رقم دے کر یہ ویڈیو بنوائی تھی۔ قاضی جمیل نے کہا کہ اس طرح کی ایک ویڈیو جاری ہوئی تھی جس کی بنیاد پر 3 اپریل 2009ء کو ایف آئی آر بھی درج ہوئی سیکشن 364-A اور 365 ، 342 ، 320 ، 121-A طرح کے مختلف سیکشن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایک پرچہ ہوا تھا اس پر ابھی بھی تفتیش جاری ہے اور ہم نے ایک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بنائی ہے۔ ایس پی انویسٹی گیشن اس ٹیم کے ہیڈ ہیں اور تفتیش ابھی جاری ہے۔ اس سلسلے میں پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ خاتون کو کوڑے مارنے والے کسی ایسے شخص کی گرفتاری کا کوئی علم نہیں، سوات میں انتہا پسند طالبان کی جانب سے عورت کو کوڑے مارے جانے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد تحریک طالبان سوات کے اس وقت کے ترجمان مسلم خان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ یہ واقعہ پیش آیا تھا اور یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ عورت کو سرعام کوڑے مارنے کا طریقہ کار غلط تھا۔ مسلم خان نے کہا کہ یہ سزا دی گئی لیکن اس کے ساتھ جو مرد اس واقعے میں شریک تھا اس کو منظر عام پر نہیں لا یا گیا۔

اور ذیل میں میری وہ پوسٹ موجود ہے جو کہ میں نے اُس وقت لکھی تھی جب یہ جھوٹا دعوی کیا گیا تھا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور ایک این جی او نے بنوائی ہے۔

**