Munir (not his real name), an administrator in the Swat region of Pakistan, has returned to his home in Swat three months after his family fled the conflict there. He describes the challenges of daily life with optimism about the future.
We returned to Swat on 2 August. We were very excited. We were desperate to go to our village, but we were told by other villagers over the phone that people were not allowed to enter the village without a special pass.
Therefore we had to stay near Mingora for two days to obtain such passes before we could return to our home village. More than two feet grass had grown while we were away. Everything seemed to be in its place, nothing was stolen.
After a few days staying at home I went out for a walk around the village. I found many houses badly damaged in the fighting. Our relatives’ houses were among the damaged ones. Electricity wires and phone cables were lying scattered on the ground, although we do have power and our phone is working.
Many houses and shops were plundered. I saw three shops completely emptied. One shopkeeper told me that 200 sacks of rice had been stolen from his shop.
Three or four houses belonging to militants were completely razed to the ground. The army is still coming to our village to destroy houses known to belong to militants. ‘Militants defeated’
I saw the hairdresser in my village openly and bravely shaving people. I heard songs in the streets and in the shops for the first time after a long while.
About 80% of the people from our village have returned. Life is getting back to normal, but there are problems.
Many people are without jobs due to the curfews and people can’t move easily inside Swat. Swat is like a jail for us now - there are many checkpoints and curfews are imposed all the time. People are sick of them.
**I am very happy of the way things have turned up… I see that the militants have been defeated. **
Electric power is another big problem. It is so weak, that we can’t switch on the motor to pump water up and we can’t turn on the refrigerator to cool things. Power cuts can happen any time.
People are a little bit worried again as several suicide attacks occurred in the last few days. But as a whole, people are happy and satisfied with the operation in the area.
We are very happy with the army: people pat soldiers on the back and give them food and gifts - something that had never happened in the past. The army has regained its popularity. People feel indebted to the army also because it has reduced the price of bread from five to two rupees.
Everyone is pleased to be back home, though most people, including me, are anxious that leaders of the militants still haven’t been arrested or killed.
You hear about bodies of militants turning up these days. Many people are of the view that the security forces are behind this.
But regardless of who’s responsible, people get really happy when they hear that militants have been killed, because their dear ones were brutally killed by those militants.
I have so many stories of the cruelties happening in our lands. I hope I will write them down one day.
I am myself very happy of the way things have turned up. I am optimistic about the future because I see that the militants have been defeated.
They can’t hold such a powerful position here again. Swat has a bright future because its people have learnt the importance of peace and education. They have become united.
I am now thinking about my wedding, which will take place soon after the Eid, before October.
’’یہ چھبیس اکتوبر دو ہزار آٹھ کی صبح کا واقعہ ہے۔ گوالیرئی گاؤں کی مسجد میں ستر کے قریب مقامی قبائلی رہنما طالبان کے نمائندے ملا شمشیر کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔ مذاکرات کے دوران یہ طے پایا کہ طالبان آئندہ گاؤں میں داخل نہیں ہونگے البتہ انہیں سڑک پر سے گزرنے کی اجازت ہوگی اور مشران نے طالبان کی یہ شرط مان لی کہ وہ فوج سے ملاقات کرکے انہیں گاؤں میں آنے سے منع کریں گے۔ قرآن مجید کو گواہ بنا کر درمیان میں رکھا گیا اور ملا شمشیر نے آخری دعا کردی۔
دو دن بعد انہوں نے ہم میں سے دو مشران کوگولیاں ماردیں اور انہیں باہر بجلی کے کھمبوں پر لٹکادیا۔ بعد میں انہوں نے تین یرغمالی مشران کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کو طالبان سے راضی نامہ کرنے پر قائل کریں۔ مشران نے گاؤں جا کر لوگوں کے سامنے دامن پھیلا پھیلا کر انہیں طالبان سے صلح کرنے پر راضی کرا لیا۔
اکرام اللہ
دعا کے بعد ملا شمشیر باہر نکل گئے اور مشران فوجی حکام سے مذاکرات کا طریقہ کار طے کرنے میں مصروف ہوگئے کہ چند منٹوں کے بعد ملا شمشیر مسجد میں دوبارہ داخل ہوئے اور کہا کہ ’امیر صاحب آگئے ہیں وہ تم لوگوں سے کچھ کہنا چاہ رہا ہے‘۔ تھوڑی دیر بعد ابنِ یامین، خوگ، غزنوی نامی طالبان کمانڈر اپنے تیس کے قریب ساتھیوں کے ہمرا جوتوں کے ساتھ ہی مسجد میں داخل ہوگئے۔
ان کے پاس کلاشنکوفیں، جی تھری بندوقیں تھیں اور انہوں نے اپنے جسموں کے ساتھ گرینیڈ اور دیگردھماکہ خیز مواد باندھ رکھا تھا۔ ابن یامین نے داخل ہوتے ہی اپنے ایک رشتہ دار ایوب سپین دادا پر کلاشنکوف کا برسٹ چلا دیا۔اس کے ساتھ ہی طالبان نے جرگے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ گولیوں کے شور میں کسی کی بھی آواز سنائی نہیں دے رہے تھی۔ جب فائرنگ میں کمی آئی تو میں نے دیکھا کوئی کراہ رہا ہے، کوئی مردہ حالت میں، کوئی مسجد کے ستون کے پیچھے چھپا اور بعض لوگ کسی کونے میں گھٹڑیوں کی صورت میں بیھٹے ہوئے ہیں۔اس موقع پر پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔طالبان نے باقی لوگوں پر بندوقیں تان کر انہیں یر غمال بنایا۔
انہوں نے سپین دادا کے چھوٹے بھائی بہر مند خان کو قتل کرنے کے بعد پاؤں سے پکڑ کر باہر مسجد کی صحن میں پھینک دیا اور ان کے دوسرے بھائی بر کمال کو ابنِ یامین نے زندہ پکڑ کر ان سے کہا کہ ’وہ تم ہی تھے جس نے مجھے دھمکی دی تھی کہ میں تمھاری آنکھیں نکال دونگا‘۔ یہ کہنے کے بعد اس نے بر کمال کی آنکھوں پر کلاشنکوف کی نال رکھی اور دو برسٹ مار دیے۔
اس کے بعد طالبان نے اندر آکر ایوب سپین داد اور ایک اور قبائلی رہنما کی لاش اٹھائی اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر انہیں باہر ایک درخت پر لٹکادیا۔ابھی ہم ساٹھ سے زائد لوگ اندر ہی یرغمال تھے کہ باہر سے شدید فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔ ہمیں ڈر لگا کہ کہیں گاؤں والوں نے ہماری مدد کے لیے طالبان پر حملہ نہ کردیاہو۔ ہمیں خوف تھا کہیں طالبان ہم سب کو مار نہ دیں۔
گاؤں میں جو دس سے زائد لوگ طالبان کو مطلوب تھے ان پر ایک ایک لاکھ روپے یا ایک کلاشنکوف دینے کا جرمانہ عائد کیا گیا جو انہوں نے بعد میں ادا بھی کر دیا۔
اکرام اللہ
یہ سلسلہ دس سے ایک بجے تک جاری رہا۔ اس کے بعد طالبان ساٹھ سے زائد یر غمالی مشران کو اپنے ہمراہ لے گئے اور ہمیں گاؤں سے تقریباً دو کلومیٹر دور اغل نامی پہاڑی علاقے کی طرف لے گئے۔ وہاں پر ہمیں ایک سکول میں رکھا گیا۔ وہ ہر وقت ہمیں مارتے تھے۔ خوفزدہ کرنے کے لیے ہمارے سامنے چھریاں تیز کرتے اور آ کر کہتے آج اس کو اور کل فلاں کو ذبح کرنے کی باری ہے۔
دو دن بعد انہوں نے ہم میں سے دو مشران کوگولیاں ماردیں اور انہیں باہر بجلی کے کھمبوں پر لٹکادیا۔ بعد میں انہوں نے تین یرغمالی مشران کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ گاؤں کے لوگوں کو طالبان سے راضی نامہ کرنے پر قائل کریں۔ مشران نے گاؤں جا کر لوگوں کے سامنے دامن پھیلا پھیلا کر انہیں طالبان سے صلح کرنے پر راضی کرا لیا۔
اس کے بعد ہمیں چھوڑ دیا گیا۔ گاؤں میں جو دس سے زائد لوگ طالبان کو مطلوب تھے ان پر ایک ایک لاکھ روپے یا ایک کلاشنکوف دینے کا جرمانہ عائد کیا گیا جو انہوں نے بعد میں ادا بھی کر دیا۔ جب ہم واپس آئے توگاؤں والوں نے بتایا کہ پہلے دن جب وہ جاں بحق ہونے والے افراد کو دفنانے میں مصروف تھے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے آکر فائرنگ کی جس میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ جو لوگ باقی میتوں کو غسل دینے میں مصروف تھے وہ بھی بھاگ گئے۔
ہمارے گاؤں کے قریب پیر سمیع اللہ کا گاؤں ہے۔ وہاں پر جب لوگوں کو پتہ چلا کہ گوالیرئی پر طالبان نے حملہ کردیا تو انہوں نے لشکر بنایا اور ہماری طرف روانہ ہوگئے لیکن جب انہوں نے گاؤں پر ہیلی کاپٹروں کو شیلنگ کرتے دیکھا تو وہ واپس لوٹ گئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہماری فوج اور خفیہ ادارے طالبان کی پشت پناہی نہ کرتے تو ہم سوات کے لوگ ان مٹھی بھر افراد کا صفایا کردیتے۔‘‘