SHAB E MEERAJ

[HR][/HR]صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 415 حدیث مرفوع مکررات 25 متفق علیہ 23
حرملہ بن یحیی تجیبی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابوذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں مکہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام اترے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا پھر ایک سونے کا طشت حکمت اور ایمان سے بھر کر لائے اس کو میرے سینہ میں رکھا پھر اس کو جوڑ دیا، پھر حضرت جبرائیل نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر آسمان کی طرف چڑھے پھر جب ہم آسمان دنیا پر آئے تو جبرائیل نے آسمان کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے اس نے کہا کون؟ کہا جبرائیل اس نے پوچھا کیا تیرے ساتھ کوئی ہے؟ کہا ہاں میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اس نے پوچھا کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ کہا ہاں پھر فرشتے نے دروازہ کھولا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی ہے اس کے دائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے اور اس کے بائیں طرف بھی بہت سی مخلوق ہے جب وہ آدمی اپنے دائیں طرف دیکھتا ہے تو ہنستا ہے اور اپنے بائیں طرف دیکھتا ہے تو روتا ہے اس نے مجھے دیکھ کر فرمایا خوش آمدید اے نیک نبی اور اے نیک بیٹے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کون ہیں حضرت جبرائیل نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں طرف جنتی اور بائیں طرف والے دوزخی ہیں اس لئے جب دائیں طرف دیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور بائیں طرف دیکھتے ہیں تو روتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر حضرت جبرائیل مجھے دوسرے آسمان کی طرف لے گئے اور اس کے پہرے دار سے کہا دروازہ کھولئے آپ نے فرمایا کہ دوسرے آسمان کے پہرے دار نے بھی وہی کچھ کہا جو آسمان دنیا کے پہرے دارے نے کہا تھا پھر اس نے دروازہ کھولا حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آسمانوں پر حضرت آدم علیہ السلام حضرت ادریس حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم سے ملاقات ہوئی اور یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس آسمان پر کس نبی سے ملاقات ہوئی البتہ یہ بتلایا کہ پہلے آسمان پر حضرت آدم سے اور چھٹے آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی پھر جب حضرت جبرائیل علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ یہ کون ہیں جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ یہ کون ہیں جبرائیل علیہ السلام نے کہا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو! میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون ہیں جبرائیل نے کہا یہ حضرت عیسیٰ بن مریم ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرا آپ نے فرمایا نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون ہیں جبرائیل نے کہا کہ یہ حضرت ابراہیم ہیں ایک دوسری سند میں ابن شہاب اور ابن حزم نے کہا کہ ابن عباس اور ابوحبہ انصاری دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے معراج کرائی گئی یہاں تک کہ مجھے ایک بلند ہموار مقام پر چڑھایا گیا وہاں میں نے قدموں کی آواز سنی ابن حزم اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں آپ نے فرمایا کہ میں ان نمازوں کو لے کر لوٹا تو حضرت موسیٰ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا ان پر پچاس نمازیں فرض فرمائیں گئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اپنے رب کی طرف واپس جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف واپس گیا تو اللہ نے اس میں سے کچھ نمازیں کم کردیں پھر جب موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس آیا تو ان کو بتایا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر میں اپنے رب کی طرف گیا تو اللہ تعالی نے پانچ نمازیں کردیں اور ثواب میں پچاس نمازوں کا ہی ملے گا اللہ عزوجل نے فرمایا میرے قول میں تبدیلی نہیں آتی پھر جب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف واپس آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے پھر کہا کہ اپنے رب کی طرف جائیے تو میں نے کہا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر مجھے جبرائیل علیہ السلام لے گئے یہاں تک کہ ہم سدرۃ المنتہی پر آگئے جہاں ایسے ایسے رنگ چھائے ہوئے تھے کہ ہم نہیں جان سکے کہ وہ کیا ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا جہاں موتیوں کے گنبد اور اسکی مٹی مشک کی تھی۔