چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے پاکستان کے نجی ٹی وی چینل دنیا ٹی وی پر دیے گئے انٹرویو میں وقفے کے دوران اُن کی پروگرام کے میزبانوں سے گفتگو کی ویڈیو سے متعلق تحقیقات کے لیےدو رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جواد ایس خواجہ اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ جسٹس خلجی عارف حسین بھی اس کمیٹی کے رکن ہیں۔ یہ دو رکنی کمیٹی اس واقعہ کی تحقتقات مکمل کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گی۔
اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ عدالت نے پیمرا کے چیئرمین کو اس ویڈیو سے متعلق تفصیلی رپورٹ جلد از جلد سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے پاس جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے دو روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل ’دنیا ٹی وی‘ پر بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کے انٹرویو کو طے شدہ (پلانٹڈ) قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پروگرام توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے فل کورٹ اجلاس کے دوران چیف جسٹس کے سامنے پیش کیے گئے نوٹ میں کہی۔
اس نوٹ میں اُنہوں نے کہا کہ بادی النظر میں یہ انٹرویو عدلیہ کے خلاف ایک طے شدہ سازش کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ججز کا فُل کورٹ ریفرنس جمعہ کو منعقد ہوا جس میں ایجنڈے کے مطابق انتظامی امور اور زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے معاملات زیر بحث آئے۔
اسی اجلاس میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے ایک نوٹ چیف جسٹس کو پیش کیا جس میں تیرہ جون کو بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کا نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وقفے کے دوران ملک ریاض اور اینکرز مبشر لقمان اور مہر بخاری کے درمیان ہونے والی گفتگو کے سوشل میڈیا پر آنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔ “اس پروگرام سے عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی اور اس میں عدلیہ اور ججز کا واضح مذاق اُّڑایا گیا ہے۔ پروگرام کا مقصد سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز ہونا تھا۔”
رجسٹرار سپریم کورٹ
رجسٹرار کا کہنا تھا کہ اس پروگرام سے عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی اور اس میں عدلیہ اور ججز کا واضح مذاق اُّڑایا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات پر اثرانداز ہونا تھا۔ اس اجلاس کے دوران اس پروگرام کی منظر عام پر آنے والی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
اس اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے چیئرمین عبدالجبار کو بھی طلب کیا گیا اور اُن سے استفسار کیا کہ جو پروگرام عدلیہ یا پارلیمنٹ کے مخالف ہوتے ہیں اُس پر اُن کا ادارہ کیا کارروائی کرتا ہے۔
پیمرا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اُنہیں نوٹس جاری کرتے ہیں اور وضاحت طلب کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وضاحت اگر تسلی بخش نہ ہو تو اُن کے لائسنس معطل کردیا جاتا ہے۔
چیف جسٹس نے پیمرا کے چیئرمین سے ان چینلز کی تفصیلات طلب کی ہیں جنہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ تیرہ جون کو نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز نے چیف جسٹس کے بیٹے کی جانب سے مبینہ طور پر مالی فوائد لینے کے معاملے کے مرکزی کردار ملک ریاض کا ایک خصوصی انٹرویو نشر کیا گیا تھا اور بعدازاں سوشل میڈیا پر اشتہاری وقفہ جات کے دوران ملک ریاض اور ان کے ٹی وی میز بانوں مبشر لقمان اور مہر بخاری کے درمیان ہونے والی بات چیت افشاء کر دی گئی جس سے بظاہر لگا کہ یہ طے شدہ تھا۔
نجی چینل دنیا ٹی وی نے کہا ہے کہ یہ ویڈیوز چینل کو بند کروانے کی ایک سازش کے تحت لیک کی گئی ہیں تاہم ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد پاکستان میں سیاستدانوں اور جرنیلوں سمیت میڈیا جیسے ملک کے طاقتور طبقات کے احتساب کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
Mutanaaziah nahi balkeh badnaam-e-zamaana interview.
Meher, Luqmaan aur Malak Riyaaz Bahria thekedaar kissi ko munh dikhaane ke qaabil nahi rahe.
I don’t feel sorry for Luqmaan and Riyaaz but do feel sorry for Meher for some reason.
BTW, didn’t these people think that this could happen and be extra careful ?
Didn’t they learn anything from the fraudia Aamir Liaquat video leaks ?
Also, a few weeks ago Luqmaan was on a rampage against Hamid Mir on twitter calling him a CIA agent and Hamid was very worried. Maybe this was the work of a friend of Hamid Mir in Duniya TV to take revenge on Luqmaan.
Why is CJ still involved in confrontation with Malik Riaz? Isn't there a separate case against him already underway in SC? Let the other bench who is hearing that case handle this interview.
But when taken alongside the whole Bahriagate, then it does become a tad more important, in that Malik Riaz is buying his way into the media in his bid to pressurize the Supreme Court and malign the judges.
By the way, I do wonder where Pakistan has shoved up some other pressing matters - namely, Abbottabad and Memo Comission, and the shenanigans of the Peon Minister. Plus a lot of other ones, as well.
CJ all the way, right step in right direction again, this will stop the media houses and anchors to promote notorious personalities and their views against the institutions of Pakistan as per their will!!
Maybe this media circus is created to divert attention from more important issues.
That's what they do in the West.
The SC was furious on the agencies over missing persons case because these agencies was considering themselves above Allah and thinks they are answerable to no one and just can do whatever they want....
Govt is not happy with SC, as a matter of fact govt and its allies are having sleepless nights with independent judiciary having a check at them...
so they played their cards, they wanted to malign both forces, the media and judiciary to make them dubious character if cannot corrupt them!!
SC going overboard on this. It is not THAT serious a matter that SC takes notice of it!!!! crazy!
Here I agree with you. It is called "bokhlahit". My sympathies are for the government officer who is being grilled by CJ without any reason. Government officials are always in trouble, they are always under fire by politicians, media, army and and now this CJ. Why? If CJ has so much pain (which I can see it from his reaction) he should call these anchors and owner in his court and properly grill them rather than making a scape goat.
The SC was furious on the agencies over missing persons case because these agencies was considering themselves above Allah and thinks they are answerable to no one and just can do whatever they want....
to bhai agencies ko danda do na, ( he has no balls to do that) is bachary sarkari mulazim ka kya qasoor hay.
Yes, Supreme Court has to intervene if the secret agencies exceed their limits and operate unlawfully, but the two people who should be keeping them in check in the first place are doing diddlysquat.