Samina Raja the greatest Urdu poetess

**
ہوائے یاد نے اتنے ستم کیے اس شب
ہم ایسے ہجر کے عادی بھی رو دیے اس شب

فلک سے بوندیں ستاروں کی طرح گرتی ہوئی
بہک رہی تھی وہ شب جیسے بے پیے اس شب

بھڑکتے جاتے تھے منظر بناتے جاتے تھے
ہوا کے سامنے رکھے ہوئے دیے اس شب

عجب تھے ہم بھی کہ دیوار نا امیدی میں
دریچہ کھول دیا تھا ترے لیے اس شب

چراح بام نہ تھے، شمع انتظار نہ تھے
مگر وہ دل کہ مسلسل جلا کیے اس شب

وہ چاک چاک تمنا،وہ زخم زخم بدن
تری نگاہ دلآرام نے سیے اس شب

خبر ہوئی کہ جلاتا ہے کس طرح پانی
وہ اشک شعلوں کے مانند ہی پیے اس شب

وہ شب کہ جس کے تصور سے جان جاتی تھی
نجانے صبح تلک کس طرح جیے اس شب


Re: Samina Raja the greatest Urdu poetess

**
چراغ بام توہو، شمع انتظار تو ہو
مگر ہمیں ترے آنے کا اعتبار تو ہو

کسی کی دید تو ہو،نیند کا سراب سہی
خدائے خواب! ہمیں اتنا اختیار تو ہو

کھلیں گے ہم بھی برنگ گل و بسان شرر
ترے نگر میں چراغاں تو ہو، بہار تو ہو

وہ ابر ہے تو کسی خاکنائے پر برسے
جو خاک ہے، تو کسی راہ کا غبار تو ہو

ہوا کے ساتھ ھی آئے، ہوا کے ساتھ ہی جائے
پر ایک رشتہء جاں اس سے استوار تو ہو

جو زندگی کی طرح سامنے رہا ہر دم
وہ راز اپنی نگاہوں پہ آشکار تو ہو

ہے جس کا ورد شب و روز کے وظیفے میں
در وفا، تری تسبیح میں شمار تو ہو

یہ کیا، وہ سامنے ہو اور دل یقیں نہ کرے
نگاہ شوق پہ تھوڑا سا اعتبار تو ہو

تمام عمر ستاروں کے ساتھ چلتے رہیں
فلک پہ ایسا کوئی خطّ رہگزار تو ہو


Re: Samina Raja the greatest Urdu poetess

**
کلفت جاں سے دور دور، رنج و ملال سے جدا
ہم نے تجھے رکھا، ہر ایک صورت حال سے جدا

آج نگاہ اور تھی، اور نگاہ سرد میں
ایک جواب اور تھا، میرے سوال سے جدا

شام اداس،پھول زرد،شمع خموش، دل حزیں
کوئی رہا تھا تھوڑی دیر بزم جمال سے جدا

ہم میں بھی کوئی رنگ ہو ذوق نظر کے ساتھ ساتھ
تم میں بھی کوئی بات ہو، شوق وصال سے جدا

تم کو نہ کچھ خبر ہوئی، آمد و رفت ہجر کی
خانہء عشق میں رہے، ایسے کمال سے جدا

کیسی عجب ہوا چلی،ایک ہوئے ہیں باغ و دشت
گل سے خفا ہے بوئے گل، رم ہے غزال سے جدا

دھند میں اور دھوپ میں،نیند میں اور خواب میں
ہم تھے مثیل سے الگ ، ہم تھے مثال سے جدا


Re: Samina Raja the greatest Urdu poetess

**
پھول روش روش پہ تھے، رستہ ء صد چراغ تھا
کون کہے گا اِس جگہ دشت نہیں تھا، باغ تھا

اِس طرح درد سے بھرے اِس طرح ٹوٹ کر گرے
جیسے کہ چشم تھی سبو جیسے کہ دل ایاغ تھا

جب سے نگاہ ہو گئی اخترِ شام کی اسیر
شب کی نہ کچھ خبر ملی دن کا نہ کچھ سراغ تھا

ہم نے بھی خود کو حجرہء خواب میں رکھ لیا کہیں
کوئی جو کم نگاہ تھا کوئی جو کم فراغ تھا

وصل ِ زمین و آسماں دیکھ چکی تھی ایک بار
چہرہء شام ِ انتظار اس لیے باغ باغ تھا

اس میں تو کوئی شک نہیں ہم میں چمک دمک نہیں
آئنہء نگاہ ِ دوست آپ بھی داغ داغ تھا

سیرِ جہاں کے باب میں دونوں ہی سَیر چشم تھے
ایک کو صد ِ راہ دل، اک کے لیے دماغ تھا

صبح ہوئی تو سامنے چہرہء شہر ِ بے تپاک
رات ہوئی تو منتظر خانہء بے چراغ تھا
**

Re: Samina Raja the greatest Urdu poetess

**کب چراغوں کی ضرورت ہے ملاقاتوں میں
روشنی ہوتی ہے کچھ اور ہی ان راتوں میں

سر پہ جھکتا ہوا بادل ہے کہ اک یاد کوئی
اور بھی گہری ہوئی جاتی ہے برساتوں میں

ایک خوشبو سی کسی موسم ِ نادیدہ کی
آخری چیز بچی عشق کی سوغاتوں میں

یہ جو بنتا ہے اجڑتا ہے کسی خواب کے ساتھ
ہم نے اک شہر بسا رکھا ہے ان ہاتھوں میں

نقش کچھ اور بنائے گئے سب چہروں پر
بھید کچھ اور چھپائے گئے سب ذاتوں میں

شاعری،خواب،محبت، ہیں پرانے قصے
کس لیے دل کو لگائے کوئی ان باتوں میں

ہفت خواں یوں تو ملے عشق کے اس رستے پر
ہجر ہی منزل ِ مقصود ہوئی ، ساتوں میں

دست بردار ہوئے ہم تو تمناؤں سے
عمر گزری چلی جاتی تھی مناجاتوں میں


Re: Samina Raja the greatest Urdu poetess

**
شام کو ہو کے بے قرار یاد نہیں کِیا تجھے
کب یہ ہوا کہ بار بار، یاد نہیں کِیا تجھے

خواب سجا کےجی لیےدل سےلگا کےجی لیے
رشتہء دردِ استوار، یاد نہیں کِیا تجھے

دانش ِخاص ہم نہیں یوں توجُنوںمیں کم نہیں
دل پہ ہے اتنا اختیار، یاد نہیں کِیا تجھے

فصل ِ بہار پھر خزاں،رنگِ بہار پھرخزاں
آئی ہے پھر سے اب بہار یاد نہیں کِیا تجھے

اشک جو ختم ہو گئےخود سے لِپٹ کےسوگئے
کوئی نہیں تھا غمگسار، یاد نہیں کِیا تجھے

کتنی کہانیاں کہیں، کتنے فسانے بُن لیے
بن گئے داستاں نگار، یاد نہیں کِیا تجھے

سخت اداس تھا نگر،سہمے ہوئے تھے بام و در
دور تھے سارے رازدار، یاد نہیں کِیا تجھے

ایک چراغ راہ میں دیر تلک جلا کِیا
بجھ گئی چشم ِ سوگوار یاد نہیں کِیا تجھے

ڈھونڈ لیا ترا بدل کہتے ہی کہتے اک غزل
سوئے ہیں اہل ِ انتظار، یاد نہیں کِیا تجھے


Re: Samina Raja the greatest Urdu poetess

**
فضائے شہر محبت بدلنے والی ہے
دل تباہ کی قسمت بدلنے والی ہے

بدلنے والی ہے اب سے ردائے لالہ وگل
ہوائے دشت کی نیت بدلنے والی ہے

پھر ایک جلوہء صد رنگ کے تسلسل میں
نگاہ آئینہ ، حیرت بدلنے والی ہے

بس ایک بار تجھے ہم قریب جاں دیکھیں
پلٹ کے دیکھ، یہ حسرت بدلنے والی ہے

کہیں پہ نیم اجالا، کہیں پہ تاریکی
شب ملال کی صورت بدلنے والی ہے

قمر نے ایک نئے برج میں قدم رکھا
زمیں پہ ہجر کی ساعت بدلنے والی ہے

فسون مرگ میں ہے زندگی کئی دن سے
سو اپنا جامہء وحشت بدلنے والی ہے

ہمیں تو عشق نے ہجرووصال میں رکھا
سنا ہے وجہ رفاقت بدلنے والی ہے

خبر ہوئی کہ ہے دل ہی نگار خانہء حسن
نظر کی سمت مسافت بدلنے والی ہے

نئی صدی ہے اور اس کے نئے تقاضے ہیں
ہر آدمی کی ضرورت بدلنے والی ہے