**صدام حسین کی پھانسی کا منظر دیکھنے کے بعد اس کی نقل کرتے ہوئے پنجاب کے شہر رحیم یار خان میں ایک نو سالہ بچہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔**رحیم یار خان کے تھانہ اے ڈویژن میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار فدا حسین نے محلہ قاضیاں کے مبشر علی کی ’پھانسی کے کھیل‘ میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بچے نے گلے میں پھندا خود ڈالا تھا۔
مبشر علی اپنی بہن اور بھائی کے ساتھ مل کر کھیل رہے تھے۔ ان بچوں نے معزول عراقی صدر صدام حسین کی پھانسی کا منظر ٹی وی پر دیکھا تھا، جس میں بار بار ان کے گلے میں پھانسی کا پھندا پہناتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا۔
اہلخانہ کے مطابق چوتھی جماعت کے طالبعلم مبشر نے گھر کی چھت پر رکھی پیکنگ میں استعمال ہونے والی نائلون کی رسی کا پھندا بنا کر گلے میں ڈالا اور خود سے ایک برس بڑی اپنی بہن اور پانچ برس چھوٹے بھائی کے ساتھ صدام حسین کی پھانسی کا کھیل کھیلنے لگا۔ http://www.bbc.co.uk/f/t.gif
مقامی صحافی عبداخالق شاکر نے کہا کہ بچے کے اہلخانہ نے انہیں بتایا کہ بچے نے اپنی ماں کو گلے میں پڑی نائلون کی رسی دکھا کر کہا کہ صدام کو اس طرح پھانسی دی گئی ہے۔
ان کے مطابق ماں بچےکو منع کرنے کے لیے اٹھی لیکن اس دوران سیڑھی پرکھڑے بچے کا توازن بگڑ گیا اور وہ گر کر جھولنے لگا کیونکہ نائلون کی ڈوری کا ایک سرا سیڑھیوں کی گرِل سے بندھا ہوا تھا۔ موقع پر موجود ماں اور پھوپھی کے پہنچنے سے پہلے ہی مبشر دم توڑ گئے۔
مبشر کی نماز جنازہ اس سکول کے گراونڈ میں پڑھائی گئی جہاں وہ زیر تعلیم تھے۔ عید کے روز بچے کے گھر افسوس کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔
اس بچے کی موت سے یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ صحافتی اخلاقیات اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے کسی کو پھانسی دیئے جانے کے مناظر ٹی وی پر دکھائے جانا کیا ایک درست اقدام تھا؟
Comment:
Is it ethical to flash these images again and again on TV.