**خواتین و حضرات
اسسلام علیکم
والد مرحوم کا “ساقی نامہ” پہ کرنے کی جسارت کرتا ہوں اس امید قوی کے ساتھ کہ انشاء الله آپکی طبع نازک پر بار گراں نہ گزرے گا- آپکے بیش بہا آرا کا شدّت سے انتظار رہے گا انشاء الله-
فقط خاک نشیں
حشمت عثمانی **
**ساقی نامہ
پلا ساقیاجام مے جاں نوا - ذرا ساقیا! جام اک جاں نوا
پیالہ نہیں بلکہ اک لالہ زاد - کہ یکبارگی راز ہی راز باد
خزاں اس گلستاں کی بنیاد میں - یہاں آشیاں راہ ا صیاد میں
یہ دُنیاے مردار ناپاک ہے - سگ و زاغ و کرگز کی خوراک ہے
خِرد ہے گرفتار فردا و دوش - پریشاں نگار سخت بیہودہ کوش
نظر دور دور اور دل سرد ہے - یہ گرد اوج گردُوں پہ بہی گرد ہے
کہ اسکی نظر میں چرخ کبود - کبھی سقف نیلی کبھی بحر دود
فضا میں شعاؤں کا منظر کبھی - حدود نگاہی کا منظر کبھی
الگ سب سے تحقیق رند خراب - فلک چُشمہ مے، ستارے حباب
نہ خورشید گرداں، نہ ماه رواں - یہ سب شیشہ و جام دریا کشاں
اٹھا ساقیاجام حیرت فضا
خِرد سوز، تن سوز، دانش ربا
کہ دیکھا ہے ارباب دانش کا حال - گرہ میں نہیں بجز قیل و قال
کہیں جز کا جھگڑا کہیں کل کی بحث - تخیل کی دنیا تخیل کی بحث
کوئی محو ہے جمع و تفریق میں - کوئی گم ہے برہان تطبیق میں
کھلی ہیں ترققی کی راہیں تمام - چمکتی ہوئی درسگاہیں تمام
مگر یہ ترقی معکوس ہے - کہاں جاےگاہ وہ جو مبحوس ہے
اسے کیا ملیگی جہاں کی خبر - جِسے خود نہیں اپنی جاں کی خبر
اسے پھینک دے لے کے گرداب میں _ ک بہہ جائے حکمت یہ سیلاب میں
دراز اسکے شغل اور مدفن ہے یہ
یہ رہبر نہیں بلک رہزن ہے یہ
فسردہ ہوں میں ساغر مے پلا - پلا اور، ساقی! پیالے پلا
تلاطم اٹھا کر ڈبو دے مجھے - اسی جام و مینا میں کھو دے مجھے
کہ پانا کہاں جو کھونا نہ ہو - یہی زندگی ہے کہ ہونا نہ ہو
مجھے ایک جام بقا چاہئے - خودی کی جگہ پر خدا چاہئے
جہاں تک نظر جا رہی ہے مری - تمام اک توہین ساقی تری
خودی کی نمائش، خودی کا ظہُور - یہ سب زہد و تقوا ہے فسق و فجُور
نہیں دیکھتا اپنامحرم اسے - تو حیرت سے تکتا ہے عالم اسے
کہ اس میر مسعود کو کیا ہوا - فرشتوں کے مسجُود کو کیا ہوا
کہ سجدے میں بھی تاب باقی نہیں - گہر ہے مگر آب باقی نہیں
صنم خانے سے بڑھ کے ہے مسجد کا بت - برہمن سے محکم ہے زاہد کا بت
بت برہمن گرز سے چُور چُور - بت شیخ دست مجاہد سے دُور
اٹھا، ساقیا! جام مے جاں نواز
کہ کھل جائے سب مجھ پہ ہستی کا راز
یہ میری نہیں’ ساقیا! تری آنکھ - خطا کرنے والی نہیں میری آنکھ
یہ سالار غزنی، وہ سیلاب فن - وہ بت خانہ برہمزن و بت شکن
یہاں مائل ہرزہ کاری ہے وہ - خود اس میکدے کا پجاری ہے وہ
خودی ہے نمایاں بھی، باریک بھی - خودی ہے منور بھی، تاریک بھی
یہیں ایک ہے پاک و دیرینہ اور - مگر اس خودی کا ہے آئینہ اور
وہ اس وقت تھی جب یہ آدم نہ تھا - یہ آدم نہیں بلکہ عالم نہ تھا
وہ اب بھی ہے لیکن جہاں تُو نہیں - یہ ساقی سے پوچھ اب کہاں تُو نہیں
توہُم میں تُو ہے، تعقُل میں تو - تصوّر میں تُو ہے، تخیُل میں تو
ترے ساتھ ہی بت پرستی بھی ہے - کہ اک بت کدہ تیری ہستی بھی ہے
خِرد کے پجاری ہیں ہنگامہ خیز
بس اب، ساقیا! جام بت خانہ ریز
یہ اِیجاد و سامان غارتگری - یہ سوداے خوں ریزی و برتری
یہ سب ہیچ کچھ،اسکا حاصل نہیں - اگر تُو زمانے سے غافل نہیں
زمانہ ہے خوں خوار و طاقت شکن - کھلی اسکی فطرت، کھلا اسکا فن
بہت اس نے دیکھے ہیں کافر ادا - بہت سیل رفتار، محشر ادا
ذرہ اس شکاری کا فتراک دیکھ - ذرہ پھاڑ کر پردہ خاک دیکھ
کہیں استوخوان تن نازنین - کہیں خاک ہے، اور کچھ بھی نہیں
کہاں ہے؟ ذرہ دیکھ با چشم ہوش! - سر بے کلاہ و سر تاج پوش
یہ مٹی ہے غارتگر امتیاز - یہاں ایک ہے رنگ ناز و نیاز
زمیں کو زرا دکھ چلتے ہوے - سراپاے آدم نگلتے ہوے
شکم سیر ہے اس قدر فتنہ گر - کہ ٹھوکر سے اکثر اکھڑتے ہیں سر
جواں دیکھتی ہے یہ ظالم نہ پیر - اسے لقمۂ استوخواں شہد و شیر
جِسے اپنی چھاتی پہ یہ پا گئی - اسے دیکھتے ہی دیکھتے کھا گئی
شکم پر مگر اشتہا ہے ہنوز - بلا نوش کا مونہہ کھلا ہے ہنوز
یہیں ہیں طیُورآشیانے کے بعد - یہیں دام و در اک زمانے کے بعد
اسی میں ہیں انسان والا صفات - اسی میں ہے گم اشرف کائنات
وو برق آتشیں، گرز خارا شکن - لرز جاتے ہیں جس سے دشت و چمن
زمیں کے لئے وہ بھی سر شار جام - کوئی ہو اسے پیٹ بھر نے سے کام
اٹھا جام، ساقی! دل افسردہ ہے
پلا مے کہ دل زندہ، تن مردہ ہے
دل زندہ کا موت حاصل نہیں - جو مٹ جائے وہ جسم ہے، دل نہیں
تو اک جرعہ ٹپکا دے جس خاک پر - پہونچ جائے وو خاک افلاک پر
فرشتوں کے حیرت کا ساماں ہے خاک - نمود کمالات یزداں ہے خاک
اسی سے بلندی کا بازار سرد - یہ خاک ہے چشم شیطان میں گرد
مجھے کام کیا کفر و اسلام سے - گرا، ساقیا! برق اک جام سے
کہ ہو جائے افسون و افسانہ سوخت - دل و جاں ہوں مانند پروانہ سوخت
وہ مے بھر ک ساغر اُچھلنے لگے - ہر اک موج سے نُور ابلنے لگے
فضا یہ یہاں تک پُر انوار ہو - کہ جو سانس لوں نُور کی دھار ہو
ملا حوض میخانہکو کوثر کے ساتھ - پیوں اور لے جاُوں بھر بھر کے ساتھ
کہ اوروں کے بھی ہوش اُڑانے لگوں - ملا دُوں نظر تو پلانے لگوں
محبّت سے رنگینیاں درد سر - محبّت سے گلہاہے زیبا شرر
یہ دنیا تو کیا جو ٹھہر جائے عشق - کہ فردوس سے بھی گزر جائے عشق
کہُوں کیا بہت عشق کے باب میں - کہ دنیا ہے سوئی ہوئی خواب میں
در میکدہ بند کر، ساقیا!
کہ ہونے کو ہے اب سحر، ساقیا
**
http://bazm.urduanjuman.com/Themes/dilbermc/images/icons/modify_inline.gif