Yousufi was born on September 4, 1923. He started his professional career as a banker. He was famed and admired among the literary circles who were fond of his unique way and tone of homour in his creations.
The late author?s father served as a political secretary and was the first graduate Muslim in Jaipur. Yousufi came to Pakistan in 1956 and spent most of his lifespan in Karachi.
Literary circles have expressed deep grief on the death of the legendary writer and appreciated his services for Urdu. Following are a few reactions on his passing away.
Shafi Naqi Jamie
زبان و بیان اور مہذب طنز و مزاح کا ایک عہد کار ساز بھی اپنے ساتھ لے گئے لگتا ہے کچھ بھی نہ کہا اور سب کچھ کہہ بھی گئے کیا قلمی کاٹ تھی کہ تلوار کو پتہ نہ چلے کہ وہ کٹ چکی ہے کیا انداز تکلم اور قوت گویائی تھی کہ ہر دل کو لگتا تھا کہ یہ بات تو میری تھی
**?سچ بول کر ذلیل و خوار ہونے کی بہ نسبت جھوٹ بول کر ذلیل و خوار ہونا بہتر ہے۔ آدمی کو کم از کم صبر تو آ جاتا ہے کہ کس بات کی سزا مل رہی ہے۔"
?بقول مرزا، پرندوں، چھپکلیوں، مچھلیوں، punks اور اردو لفظ میں نر مادہ کی تمیز کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔?
?لوگ کیوں، کب اور کیسے ہنستے ہیں؟ جس دن اس سوال کا صحیح صحیح جواب معلوم ہو جائے گا، انسان ہنسنا چھوڑ دے گا۔ رہا یہ سوال کہ کس پر ہنستے ہیں؟ تو اس کا انحصار حکومت کی تاب اور رواداری پر ہے۔ انگریز صرف ان چیزوں پر ہنستے ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔۔۔۔ ?پنچ کے لطیفے، موسم، عورت، تجدیدی آرٹ۔? اس کے برعکس، ہم لوگ ان چیزوں پر ہنستے ہیں، جو اب ہماری سمجھ میں آ گئی ہیں۔ ?مثلاً انگریز، عشقیہ شاعری، روپیہ کمانے کی ترکیبیں، بنیادی جمہوریت?۔
?سیاست میں، یا سائیکل پر کسی بھی سمت نکل جائیں، آپ کو ہوا ہمیشہ مخالف ہی ملے گی۔?
?گرم ممالک میں بحث کا آغاز صحیح معنوں میں قائل ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ دانستہ دل آزاری ہمارے مشرب میں گناہ ہے۔ لہٰذا ہم اپنی اصل رائے کا اظہار صرف نشہ اور غصّے کے عالم میں کرتے ہیں۔?
?عورتوں کا دل جیتنے کے معاملے میں عامل حضرات ڈاکٹروں سے زیادہ چالاک ہوتے ہیں۔ ان کا ایک جملہ کافی ہوتا ہے کہ ?آپ کو نظر لگی ہے?۔?
?لڑکپن بادشاہی کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں کوئی مجھے حضرت سلیمان کا تخت ہدہد اور ملکہ سبا بھی دے دیتا تو وہ خوشی نہیں ہوتی جو ایک پتنگ لوٹنے سے ہوتی تھی?۔"
?اس زمانے میں ایئر کنڈیشننگ عام نہیں تھی۔ صرف ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز ایئر کنڈیشنڈ ہوتے تھے لیکن اس سے مستفید ہونے کے لئے پہلے بے ہوش ہونا ضروری تھا البتہ سنیما ہال میں یہ شرط نہیں تھی۔ لہٰذا رمضان کے مہینے میں کوئی فلم قضا نہیں ہوتی تھی۔ اس عمل کو روزہ بہلانا کہتے تھے۔ ضمیر جعفری کہتے تھے آپ لوگ فلم کو چسنی کی طرح استعمال کرتے ہیں، جب کہ محمّد جعفری فرماتے تھے کہ ایسے ویسے سین کے بعد اگر تین مرتبہ قرأت سے لاحول پڑھ لی جائے تو معافی و مغفرت کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ وہ بڑا غفور الرحیم ہے۔?
?بات یہ ہے کہ وہ زمانہ اور تھا۔ نئی پود پر جوانی آتی تو بزرگ نسل دوانی ہو جاتی تھی۔ سارے شہر کے لوگ ایک دوسرے کے چال چلن پر پہرہ دینا اپنا فرض سمجھتے تھے :
بزرگ قدم قدم پر ہماری ناقابلِ استعمال جوانی کی چوکیداری کرتے تھے۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ہماری لغزشوں اور غلطیوں کو پکڑنے کے لیے اپنا بڑھاپا چوکنے وکٹ کیپر کر طرح حالتِ رکوع میں گزار دیتے تھے۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اگر یہی کچھ ہونا تھا تو ہم جوان کاہے کو ہوئے تھے۔?
?زندوں کی تعریف کرنا ہمارا دستور نہیں?
?آپ نے گاندھی گارڈن میں اس بوہری سیٹھ کو کار میں چہل قدمی کرتے نہیں دیکھا جو کہتا ہے کہ میں ساری عمر دمے پر اتنی لاگت لگا چکا ہوں کہ اب اگر کسی اور مرض میں مرنا پڑا تو خدا کی قسم خود کشی کر لوں گا۔?
Extremely sad to hear the news of Yousufi passing away. Nobody could write satire like him. I read his Aab-e-Gum as a child and was blown away with his style of narration, command of Urdu language and most importantly the funny things he said with so much class, it was comical satire of classical literature proportions. I read his very 1st book Charagh Talay later on as well, and still remember the references to Mirza Sahab and the Coffee.
'In Pakistan most people drink coffee for one reason only: its is not grown in Pakistan'
'Someone asked Mirza Sahab, when do you think love should happen, before or after marriage? He replied, it doesn't matter when one is struck by love, but one must make sure his wife does not get a sniff'
'As per Mirza Sahab, half of pleasurable things in the World have been prohibited by men of religion, and remaining half by men of Medicine'.
And another I can vaguely remember 'Ghalib is the only poet in the World who if not understood, increases the pleasure of reading!' - how so true!