**جاگتی آنکھوں میں چند خواب رہنے دو **
[RIGHT]جاگتی آنکھوں میں چند خواب رہنے دو
گئے موسموں کا اب حساب رہنے دو
کل اگر بچھٹر گئے تو تیری یاد دلائے گا یہ
ہما رے ساتھ آنسوؤں کا سیلاب رہنے دو
جو ہم نے کہی تھی تمہیں خط میں کبھی
اب اُس بات کا جواب رہنے دو
سجاؤ تم کسی اور کی دُنیا خوشی سے
ہماری آنکھوں کو یونہی بے خواب رہنے دو
ہم کانٹوں کے عادی ہیں صندل
کسی اور کو دے دینا یہ گلاب رہنے دو[/RIGHT]
3 Likes
Re: “Rehnay Do”
very nice :k:
Re: "Rehnay Do"
Thanks Shab..........
Re: "Rehnay Do"
muge ap ke poem kese lege es bat ko dil meyn daba rhhne do :ASA:
muge toh koch nezer nehe ae etne small se he
Re: “Rehnay Do”
:k:
Re: "Rehnay Do"
very nice