Re: Raymond Davis’ antics in jail
it seems as if a new CIA agent had entered in GS. Well sir! can i ask you that is kaira an authentic authority to accept who himself is very fond of corruption and US Slavery?"
zulfikarDOT:
پاکستانی ميڈيا پر امريکی سفارت کار کی جانب سے کوٹ لکھپت جيل ميں مبينہ بدتميزی کے حوالے سے
غلط رپورٹ کی گئ کہانياں ہماری نظروں سے گزری ہيں۔ کچھ اخبارات نے
تو يہ بے بنياد الزامات بھی لگاۓ ہيں کہ امريکی سفارت کار کو جيل ميں
خصوصی مراعات دی جا رہی ہيں۔ ليکن سينير امريکی اہلکار جو کہ نا صرف يہ کہ گرفتار
امريکی سفارت کار سے مسلسل رابطے میں ہیں بلکہ پوليس انتظاميہ سے بھی مل چکے ہيں، ان کی
جانب سے ان خبروں کی واضح تردید جاری کر دی گئ ہے۔
لاہور ميں امريکی کونسل جرنل کارميلا کانراۓ نے پریس میں پوليس انتظاميہ کے
ارکان کی جانب سے ديے گۓ بيانات کے حوالے دے کر يہ واضح کيا ہے کہ گرفتار شدہ امريکی سفارت کار
نے اپنی گرفتاری کے سارے عمل کے دوران مناسب رويہ اختيار کيا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کانراۓ نے بعض اخبارات ميں شائع ہونے والی ان خبروں کی سختی سے ترديد کی ہے
کہ ريمنڈ ڈيوس اور ان سے ملاقات کے ليے آنے والے امريکی افسران نے کسی بھی موقع پر بدتميزی کی ہے۔
کانراۓ نے 27 جنوری کو ريمنڈ ڈيوس کی غير قانونی گرفتاری کے بعد کئ بار ان سے ملاقات کی ہے۔
انھوں نے اپنے بيان ميں کہا کہ وہ جيل کی انتظاميہ کی جانب سے پيشہ ورانہ برتاؤ پر ان کو خراج تحسين پيش کرتی ہیں
۔ ريمنڈ ڈيوس کو ايک عام قیدی کی طرح رکھا گيا ہے۔ انھيں ٹی وی، انٹرنيٹ، ٹيلی فون اور کسی بھی دوسرے برقی آلات تک رسائ نہیں ہے
اور وہ اپنی فيملی سے براہراست رابطے کی پوزيشن ميں بھی نہیں ہيں۔
انھيں بالکل وہی ماحول ميسر ہے جو کسی بھی پاکستانی قيدی کو اس سخت حفاظتی عمارت ميں حاصل ہے۔
وہ ايک کنکريٹ پيڈ کے اوپر فوم کے گدے پر سوتے ہيں۔
کسی بھی غیر ملکی قیدی کی طرح ريمنڈ ڈيوس کو بھی عالمی اور پاکستانی قوانين کے عین مطابق کونسل خانے سے رسائ حاصل ہے۔
انھيں صرف بنيادی لباس، ادويات، راشن اور غسل خانے کے حوالے سے اشياء فراہم کی گئ ہيں۔
ذوالفقار– ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
[EMAIL=“[email protected] ”][email protected]
www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall