Does anyone have any information about them?
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
If you ask the Mormons, they claim that Joseph Smith was sent to North America!
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Was he sent before 1492?
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
[RIGHT]اُدھر تم اِدھر ہم – اللہ اور ہوئٹزلوپوکٹلی کا معاہدہ!ہر مذھب کے ماننے والے بڑے یقین سے کہہ دیتے ہیں کہ انکا مذھب ہی سچا ہے، خدا تک رسائی کا واحد راستہ ہے، جنت اور دوزخ اسکے ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد پر ملے گی۔ مذھبی لوگ(کم از کم ابراھیمی ادیان کے ماننے والے) ایک ایسے خدا پر یقین رکھتے ہیں جو کائنات کا خالق اور مالک ہے، کائنات میں ایک کنکر بھی اسکی مرضی کے بغیر ہل نہیں سکتا، وہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے، جب آدم پیدا ہوا تب بھی موجود تھا، جب زمین بنی تب بھی، جب زمین ختم ہو جائے گی تب بھی موجود ہو گا، کائنات سے پہلے اور کائنات کے بعد بھی وہ موجود رہے گا، نیز ماضی، حال اور مستقبل تینوں سے یہ خدا واقف ہے۔ وہ نیکی کو پسند کرتا ہے بدی سے منع کرتا ہے، انسان سے محبت کرتا ہے، منصف ہے، گناہگاروں کو عذاب دیتا ہے، انسان کا ہمدرد ہے، دنیا کی بادشاہتیں اور حکوموتیں اسکے تابع ہیں، نیز انصاف اور اچھائی کی تمام ٹھیکیداری اسی خدا سے منصوب کر رکھی ہے۔1492 میں کولمبس نے امریکا دریافت کیا، اس سے پہلے ہماری دنیا(یعنی ہندوستان سے یورپ تک کے لوگ) آج امریکہ نام سے جانے والے برائے اعظم(Americas) سے بالکل ناواقف تھے، مگر کیا خدا بھی ان سے ناواقف تھا، کیا خدا کو بھی معلوم تھا یا نہیں کہ ان دو براعظموں میں بھی انسان رہتے ہیں، اور انکو بھی دین اسلام ، مسیحت یا یہودیت جیسے ہی کسی دین کی ضرورت ہے، امریکی براعظموں میں بڑی ہی شاندار تہذیبیں گزری ہیں، جن میں ایزٹک، مایا اور اروکیس(Aztec, Maya and Iroquois) سر فہرست ہیں۔
مذھبی تاریخ کے مطابق ابراھیمی(Abrahamic Religions) ادیان کی ابتدا حضرت مسیح سے 1600 سال پہلے یہودیت کے ساتھ ہوتی ہے، یہودیت کا خدا ان سب خصوصیات کا حامل ہے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں، مسیحت اور پھر اسلام بھی اسی خدا کو اپنا خدا مانتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ امریکہ پر آثارِ قدیمہ اور تاریخی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ابراھیمی ادیان کے پیش کردہ خدا یا اللہ کا کوئی بھی پیغمبر ان اقوام(یعنی حقیقی امریکیوں Native Americans) کی طرف نہیں بھیجا گیا۔ بلکہ یہ امریکی باشندے ایک ایسے ظالم مذھب پر ایمان رکھتے رہے جسکے مطابق سورج کو روزانہ طلوع ہونے کے لئیے انسانی قربانیاں درکار ہوتی تھی، بہار کو بلانے کے لئیے آنسو بہاتے ہوئے بچوں کو خدا ٹلالوک(Tláloc ) کے لئے قربان کرنا پڑتا تھا، ہر 52 سال بعد ہوئٹزلوپوکٹلی(Huitzilopochtli) کے حضور تب تک قربانیں کی جاتیں تھی جب تک پلیڈیز(Plaids) کے ستارے آسمان میں نمودار نہ ہو جائیں، ان ظالم خداؤں کے لئے بڑے بڑے مندر اور احرام(Pyramid of the Sun) بنائے جاتے تھے، قربانیون کی تعداد بڑھانے کے لئیے جنگیں کی جاتی تھی، جب جنگ جیت لی جاتی تو سب قیدیوں کو قربان گاہوں پر قربان کر دیا جاتا تھا، انکے مذھب کے پنڈت انسانی کھالوں کا لباس پہن کر خدا زائپ ٹوٹک(Xipe Totec) سے روحانی طاقت حاصل کرتے تھے۔ ایک ایسا بازار قتل و غارت گرم تھا کہ ابراہیمی ادیان کا ظالم خدا بھی شرما جائے۔
مگر ابراہیم کے خدا نے کبھی بحر اٹلانٹک(Atlantic Ocean) پار کر کے اسلام کی روشنی یا مسیحت کا پیغام پھیلانے کی کوشش نہ کی، بلکہ جب کولمبس نے امریکہ دریافت کر لئیے تو اسکو اپنے نام کی تبلیغ اور حقیقی امریکی باشندوں کا خدا بننا یاد آ گیا۔ سپین اور پرتگال سے مسیحی مشنریوں نے امریکا جا جا کر خوب مسیحت کی تبلیغ کی۔ اگر امریکہ کے براعظمون کی دریافت سے پہلے خدا ان ظالمانہ مذاھب اور انکا شکار ہونے والے انسانوں کی حالت نہیں جانتا تھا تو ہم خدا یا اللہ کو بے قصور ٹھہرا سکتے ہیں مگر اگر وہ جانتا تھا اور خاموش رہا تو وہ قصور وار اور ان لوگوں کے قتل میں برابر کا شریک ہے جوہ دین حق سے ناواقفیت کے باعث جھوٹے خداؤں کے سامنے مرے،کیونکہ اگر وہ یونس نبی کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال کر اپنی پیغام پہنچانے کے لئیے بھیج سکتا تھا، موسی سے بحر قلزم دو حصے کروا سکتا تھا تو ایسا ہی کوئی معجزہ حقیقی امریکی باشندوں تک اپنا حقیقی پیغام پہنچانے کے لئیے کیون نہیں کر سکتا تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا بحر اٹلانٹک پار نہیں کر سکتا تھا؟
اسکو کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کا انتظار تھا؟ اگر ایسا ہے تو پھر وہ کس چیز کا خدا ہوا؟ یا تو خدا قصور وار ہے ان لوگوں کے قتل کا جو قربانگاہوں پر مرے یا پھر وہ قادر مطلق اور سب کچھ جاننے والا خدا نہیں ہے؟ وہ ایک بونا خدا ہے جتنا اسکا قد اجازت دیتا وہیں تک دیکھ سکتا ہے، اور اگر اس سے آگے دیکھ سکتا ہے تو ظالم خداؤں ایمیٹوکٹلی(Ometecuthli) اور کویٹزلکوٹل(Quetzalcoatl) سے ڈر رہا ہو گا؟ یا پھر ان سے تم اُدھر ہم اِدھر کوئی ڈیل چل رہی ہو گی؟
درحقیقت یہ مسلہئہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان نے خود ہی خداؤں کو اپنی ضرورت کے مطابق پروان چڑھایا ہے، اگر ابراھیمی ادیان کی صفات کا بیان کردہ خدا حقیقت میں موجود ہوتا تو دنیا میں اتنی شدید ناانصافیاں نہ ہوتیں، کم از کم وہ اتنی ذمہ داری کا ثبوت ضرور دیتا کہ تمام انسانوں تک اپنا سچا دین پہنچائے تاکہ انسان یہ فیصلہ با آسانی کر لے کہ اسنے جنت کا راستہ اختیار کرنا ہے یا دوزخ کا؟ وہ سب انسان جو 1492 سے پہلے امریکہ میں مر گئے ان تک ابراھیمی ادیان کا پیغام کبھی بھی نہیں پہنچا اور وہ کافر مرنے کے باعث دوزخ کا ایندھن بنیں گے اور یہ اللہ کی غفلت کے باعث ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایشیا یورپ اور افریقہ میں رہنے والے مسلمان، مسیحی اور یہودی لوگوں نے کونسی نیکیاں کی تھیں کے وہ خدائے برحق کے ماننے والے بن کر پیدا ہو گئے اور حقیقی امریکی باشندے کویٹزلکوٹل(Quetzalcoatl) کے؟ یہ صفات کل کے حامل ابراھیمی خدا کی خدائی پر ایک بہت ہی بڑا سوالیہ نشان ہے، یہ جان بوجھ کر جہنم میں ڈالنا ہی ہے۔
تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے جس طرح ایزٹک، مایا اور اورکیس لوگوں کے خدا فرضی تھے، اور ان کے فرضی مذاھب پر انسان قربان ہوتے رہے، ابراھیمی ادیان کا خالق اللہ بھی ان سے ملتا جلتا ہی کوئی فرضی کردار ہے، کیونکہ اسکے ماننے والے امریکہ میں نہیں تھے اسی طرح کویٹزلکوٹل(Quetzalcoatl)، زاہپ ٹوٹک(Xipe Totec)، ہوئٹزلوپوکٹلی(Huitzilopochtli) کے ماننے والے ایشیاء یورپ اور افریقا میں نہ تھے نہ ہیں۔ اگر یہ ان ظالم خداؤں کے برعکس حقیقی ہوتا تو کم از کم ان فرضی خداؤں کے نام پر اپنی بنائی ہوئی محبوب مخلوق جس سے وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے کٹ کٹ کر مرنے نہ دیتا۔
[/RIGHT]
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
[RIGHT]اُدھر تم اِدھر ہم – اللہ اور ہوئٹزلوپوکٹلی کا معاہدہ!ہر مذھب کے ماننے والے بڑے یقین سے کہہ دیتے ہیں کہ انکا مذھب ہی سچا ہے، خدا تک رسائی کا واحد راستہ ہے، جنت اور دوزخ اسکے ماننے یا نہ ماننے کی بنیاد پر ملے گی۔ مذھبی لوگ(کم از کم ابراھیمی ادیان کے ماننے والے) ایک ایسے خدا پر یقین رکھتے ہیں جو کائنات کا خالق اور مالک ہے، کائنات میں ایک کنکر بھی اسکی مرضی کے بغیر ہل نہیں سکتا، وہ ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے، جب آدم پیدا ہوا تب بھی موجود تھا، جب زمین بنی تب بھی، جب زمین ختم ہو جائے گی تب بھی موجود ہو گا، کائنات سے پہلے اور کائنات کے بعد بھی وہ موجود رہے گا، نیز ماضی، حال اور مستقبل تینوں سے یہ خدا واقف ہے۔ وہ نیکی کو پسند کرتا ہے بدی سے منع کرتا ہے، انسان سے محبت کرتا ہے، منصف ہے، گناہگاروں کو عذاب دیتا ہے، انسان کا ہمدرد ہے، دنیا کی بادشاہتیں اور حکوموتیں اسکے تابع ہیں، نیز انصاف اور اچھائی کی تمام ٹھیکیداری اسی خدا سے منصوب کر رکھی ہے۔1492 میں کولمبس نے امریکا دریافت کیا، اس سے پہلے ہماری دنیا(یعنی ہندوستان سے یورپ تک کے لوگ) آج امریکہ نام سے جانے والے برائے اعظم(Americas) سے بالکل ناواقف تھے، مگر کیا خدا بھی ان سے ناواقف تھا، کیا خدا کو بھی معلوم تھا یا نہیں کہ ان دو براعظموں میں بھی انسان رہتے ہیں، اور انکو بھی دین اسلام ، مسیحت یا یہودیت جیسے ہی کسی دین کی ضرورت ہے، امریکی براعظموں میں بڑی ہی شاندار تہذیبیں گزری ہیں، جن میں ایزٹک، مایا اور اروکیس(Aztec, Maya and Iroquois) سر فہرست ہیں۔ مذھبی تاریخ کے مطابق ابراھیمی(Abrahamic Religions) ادیان کی ابتدا حضرت مسیح سے 1600 سال پہلے یہودیت کے ساتھ ہوتی ہے، یہودیت کا خدا ان سب خصوصیات کا حامل ہے جو میں اوپر بیان کر چکا ہوں، مسیحت اور پھر اسلام بھی اسی خدا کو اپنا خدا مانتے ہیں۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ امریکہ پر آثارِ قدیمہ اور تاریخی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ ابراھیمی ادیان کے پیش کردہ خدا یا اللہ کا کوئی بھی پیغمبر ان اقوام(یعنی حقیقی امریکیوں Native Americans) کی طرف نہیں بھیجا گیا۔ بلکہ یہ امریکی باشندے ایک ایسے ظالم مذھب پر ایمان رکھتے رہے جسکے مطابق سورج کو روزانہ طلوع ہونے کے لئیے انسانی قربانیاں درکار ہوتی تھی، بہار کو بلانے کے لئیے آنسو بہاتے ہوئے بچوں کو خدا ٹلالوک(Tláloc ) کے لئے قربان کرنا پڑتا تھا، ہر 52 سال بعد ہوئٹزلوپوکٹلی(Huitzilopochtli) کے حضور تب تک قربانیں کی جاتیں تھی جب تک پلیڈیز(Plaids) کے ستارے آسمان میں نمودار نہ ہو جائیں، ان ظالم خداؤں کے لئے بڑے بڑے مندر اور احرام(Pyramid of the Sun) بنائے جاتے تھے، قربانیون کی تعداد بڑھانے کے لئیے جنگیں کی جاتی تھی، جب جنگ جیت لی جاتی تو سب قیدیوں کو قربان گاہوں پر قربان کر دیا جاتا تھا، انکے مذھب کے پنڈت انسانی کھالوں کا لباس پہن کر خدا زائپ ٹوٹک(Xipe Totec) سے روحانی طاقت حاصل کرتے تھے۔ ایک ایسا بازار قتل و غارت گرم تھا کہ ابراہیمی ادیان کا ظالم خدا بھی شرما جائے۔ مگر ابراہیم کے خدا نے کبھی بحر اٹلانٹک(Atlantic Ocean) پار کر کے اسلام کی روشنی یا مسیحت کا پیغام پھیلانے کی کوشش نہ کی، بلکہ جب کولمبس نے امریکہ دریافت کر لئیے تو اسکو اپنے نام کی تبلیغ اور حقیقی امریکی باشندوں کا خدا بننا یاد آ گیا۔ سپین اور پرتگال سے مسیحی مشنریوں نے امریکا جا جا کر خوب مسیحت کی تبلیغ کی۔ اگر امریکہ کے براعظمون کی دریافت سے پہلے خدا ان ظالمانہ مذاھب اور انکا شکار ہونے والے انسانوں کی حالت نہیں جانتا تھا تو ہم خدا یا اللہ کو بے قصور ٹھہرا سکتے ہیں مگر اگر وہ جانتا تھا اور خاموش رہا تو وہ قصور وار اور ان لوگوں کے قتل میں برابر کا شریک ہے جوہ دین حق سے ناواقفیت کے باعث جھوٹے خداؤں کے سامنے مرے،کیونکہ اگر وہ یونس نبی کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال کر اپنی پیغام پہنچانے کے لئیے بھیج سکتا تھا، موسی سے بحر قلزم دو حصے کروا سکتا تھا تو ایسا ہی کوئی معجزہ حقیقی امریکی باشندوں تک اپنا حقیقی پیغام پہنچانے کے لئیے کیون نہیں کر سکتا تھا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خدا بحر اٹلانٹک پار نہیں کر سکتا تھا؟ اسکو کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کا انتظار تھا؟ اگر ایسا ہے تو پھر وہ کس چیز کا خدا ہوا؟ یا تو خدا قصور وار ہے ان لوگوں کے قتل کا جو قربانگاہوں پر مرے یا پھر وہ قادر مطلق اور سب کچھ جاننے والا خدا نہیں ہے؟ وہ ایک بونا خدا ہے جتنا اسکا قد اجازت دیتا وہیں تک دیکھ سکتا ہے، اور اگر اس سے آگے دیکھ سکتا ہے تو ظالم خداؤں ایمیٹوکٹلی(Ometecuthli) اور کویٹزلکوٹل(Quetzalcoatl) سے ڈر رہا ہو گا؟ یا پھر ان سے تم اُدھر ہم اِدھر کوئی ڈیل چل رہی ہو گی؟ درحقیقت یہ مسلہئہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان نے خود ہی خداؤں کو اپنی ضرورت کے مطابق پروان چڑھایا ہے، اگر ابراھیمی ادیان کی صفات کا بیان کردہ خدا حقیقت میں موجود ہوتا تو دنیا میں اتنی شدید ناانصافیاں نہ ہوتیں، کم از کم وہ اتنی ذمہ داری کا ثبوت ضرور دیتا کہ تمام انسانوں تک اپنا سچا دین پہنچائے تاکہ انسان یہ فیصلہ با آسانی کر لے کہ اسنے جنت کا راستہ اختیار کرنا ہے یا دوزخ کا؟ وہ سب انسان جو 1492 سے پہلے امریکہ میں مر گئے ان تک ابراھیمی ادیان کا پیغام کبھی بھی نہیں پہنچا اور وہ کافر مرنے کے باعث دوزخ کا ایندھن بنیں گے اور یہ اللہ کی غفلت کے باعث ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایشیا یورپ اور افریقہ میں رہنے والے مسلمان، مسیحی اور یہودی لوگوں نے کونسی نیکیاں کی تھیں کے وہ خدائے برحق کے ماننے والے بن کر پیدا ہو گئے اور حقیقی امریکی باشندے کویٹزلکوٹل(Quetzalcoatl) کے؟ یہ صفات کل کے حامل ابراھیمی خدا کی خدائی پر ایک بہت ہی بڑا سوالیہ نشان ہے، یہ جان بوجھ کر جہنم میں ڈالنا ہی ہے۔ تو پھر ایک ہی بات رہ جاتی ہے جس طرح ایزٹک، مایا اور اورکیس لوگوں کے خدا فرضی تھے، اور ان کے فرضی مذاھب پر انسان قربان ہوتے رہے، ابراھیمی ادیان کا خالق اللہ بھی ان سے ملتا جلتا ہی کوئی فرضی کردار ہے، کیونکہ اسکے ماننے والے امریکہ میں نہیں تھے اسی طرح کویٹزلکوٹل(Quetzalcoatl)، زاہپ ٹوٹک(Xipe Totec)، ہوئٹزلوپوکٹلی(Huitzilopochtli) کے ماننے والے ایشیاء یورپ اور افریقا میں نہ تھے نہ ہیں۔ اگر یہ ان ظالم خداؤں کے برعکس حقیقی ہوتا تو کم از کم ان فرضی خداؤں کے نام پر اپنی بنائی ہوئی محبوب مخلوق جس سے وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے کٹ کٹ کر مرنے نہ دیتا۔ [/RIGHT]
ye material aap ne likha hai or copied from some website?
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Copy & paste - written by my friends! But I agree to this.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Does Quran mentions important foods of humans like tomatoes, potatoes and corn?
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Does Quran mentions important foods of humans like tomatoes, potatoes and corn?
No. Not even mangoes, which was not available in the regions talked about in Quran. Even, oranges , apples (which might have been available in middle east at that time) have not been discussed. Mecca was the trade hub, which exchanged a lot of spices, but no spice except salt are mentioned in Quran. There wasn't any need for mentioning these things. Quran is not world encyclopedia, its not about discussing each and every specie available on the earth.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Copy & paste - written by my friends! But I agree to this.
Such thought got a point to an extent, but again its two sided sword. On one side, this thought is bent to prove that religion is inherently wrong and on other side such thought expect that religions should have resolved problems of population living all across world.
There are many things we don't know. Some traditions say that there were around 124,000 prophets. Quran mentions around 30, because Quran was addressed to Arabs who have references to these prophets in their folk lore and other verbal sources transferred from one generation to other. It was out of context to refer prophets which were sent to regions like India (some people say that Rama and Buddha may be prophets).
Moral of the story: Its good to think about prophets sent to America and even Antarctica, but its dishonest to make it an excuse to condemn Abrahamic religions, because they don't talk about prophets sent / foods available in other parts of the world.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Human history with scientific evidence dates back 400,000 years ago from Africa - Abrahamic religions dates back only 3500 years ago!
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
How far skills of writing and reading goes back?
Which is the longest surviving language which got a religious scripture and followers.
If we think on these questions, may be we find it unnecessary to compare 400,000 years of human existence and 3500 years of history of Abrahamic religions. BTW, Quran does not talk about dates when Prophets were sent.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Moulana Tariq Jameel gave exact 10,000 years figure. But thats all fairy tales. There is no historical evidence of existence of Abraham except the religious scriptures.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Moulana Tariq Jameel gave exact 10,000 years figure. But thats all fairy tales. There is no historical evidence of existence of Abraham except the religious scriptures.
You are already convinced that there is no evidence. Phir itni tension kis baat ki?
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Tension = killing people in the name of all false religions
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Tension = killing people in the name of all false religions
lolz. I know you will not answer but let me ask you again.
Most of the super power countries are fighting cold or proxy wars. Proxy wars have killed thousands of people. Do you think that those super powers like US, Russia, China etc are baptized to fight each other?
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
We have to see our home first. And then we can see others. Killing for any purpose is not justified.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
We have to see our home first. And then we can see others. Killing for any purpose is not justified.
So what is guarantee of people after leaving religion will not kill each other for resources like other super powers have been doing?
Ye aapki roshan khyali onhi countries ki progressiveness ki marhoon e minnat hai.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Instead of blaming and becoming personal, please reply with logics.
Our country needs the peace among us in the very first place.
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Instead of blaming and becoming personal, please reply with logics.
Our country needs the peace among us in the very first place.
Which logic? Did you answer what I asked?
What is guarantee of people after leaving religion will not kill each other for resources like other super powers have been doing?
Re: Prophets sent to the Americas & Australasia
Firstly this is not a related question. No one can stop wars if they want it. But at least we will be in piece in our country if we tolerate each other.