Baray Meharbani comment dainay say pahlay tamam post parh laina …shukaria :cobra:
https://fbcdn-sphotos-b-a.akamaihd.net/hphotos-ak-frc1/1174855_468264473272110_923915591_n.jpg
لاہور (سٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبربگٹی کی برسی کے موقع پر لاہور کوئٹہ کے درمیان چلنے والی کوئٹہ ایکسپریس کو نواب اکبر بگٹی کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اس کا نیا نام ”اکبرایکسپریس “ رکھ دیا ہے۔ پاکستان ریلوے نے اس سلسلہ میں گذشتہ روز نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے گذشتہ روزلاہور ریلوے سٹیشن پر ٹرین کے افتتاح کا فیتہ کاٹنے سمیت” اکبر ایکسپریس “کے مسافروں کو الودع کیا۔ قبل ازیں وفاقی وزیر ریلوے نے ریلوے سٹیشن پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے کوئٹہ ایکسپریس کو نواب اکبر بگٹی کے نام سے منسوب کر کے مفاہمت ، ناراض بھائیوں کو منانے اور بلوچستان کے حقوق کے لئے ان کی جمہوری جدوجہد کو سراہنے کی جانب مثبت قدم اٹھایا ہے انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے پاکستانیوں کے جمہوری حقوق کے لئے جدوجہد کی لیکن پچھلے دورآمریت میں معاملات کو درست طریقہ سے حل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی اور سمجھا گیا کہ طاقت کے استعمال سے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے لیکن میاں نواز شریف کا دور آمریت میں بھی اور اب بھی یہ موقف ہے کہ ریاستی طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں۔
کوئٹہ + ڈیرہ بگٹی (نیوز ایجنسیاں) بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی ساتویں برسی کے موقع پر گذشتہ روز کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی شہروں میں شٹرڈان ہڑتال رہی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہڑتال کی کال بلوچ ریپبلیکن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی نے دی تھی۔ اس موقع پر
کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان جمہوری وطن پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے علاوہ بلوچ طلبہ تنظیموں کی جانب سے تعزیتی ریفرنسز کا اہتمام بھی کیا گےا۔ کوئٹہ میں سریاب روڈ، بروری روڈ، جناح روڈ، قندہاری بازار اور دیگر علاقوں میں کاروباری مراکز بند رہے اور جزوی پہیہ جام رہا جبکہ مستونگ، قلات، خضدار، سوراب، تربت، نوشکی، پنجگور، گوادر، مچھ، بولان اور دیگر علاقوں میں مکمل شٹرڈا¶ن اور پہیہ جام رہا۔ یاد رہے کہ نواب بگٹی 26 اگست 2006ءکو کوہلو کے پہاڑی علاقے تراتانی میں ایک فوجی کارروائی کے دوران جاںبحق ہو گئے تھے۔ نواب بگٹی کے قتل کا مقدمہ کوئٹہ کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت میں چل رہا ہے۔ اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر بلوچ تنظیموں نے نواب اکبر بگٹی کی روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرائی، بعدازاں شرکا میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔ اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر کئی شہروں مےں ہر قسم کا کاروبار مکمل طور پر بند رہا جبکہ سٹرکوں پر ٹریفک جزوی طور پر بحال رہی۔ چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات مےں قرآن خوانی و لنگر کا بھی اہتمام کےا گےا تھا۔ سبی مےں اکبر خان بگٹی کی برسی کے موقع پر ڈپٹی کمشنر سبی کی جانب سے موٹر سائےکل پر پابندی کے باوجود سبی پولےس کی موجودگی مےں سٹرکوں پر بڑی تعداد مےں موٹر سائےکل نظر آئے۔ جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی، ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری سمیت دیگر جم اعتوں نے بھی حمایت کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نواب اکبر خان بگٹی 1927ءمیں بلوچستان کے علاقے بارکھان میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی اور پھر آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ 1946ءمیں وہ اپنے قبیلہ کے انیسویں سردار بنے۔ 1949ءمیں انہوں نے حکومت کی خصوصی اجازت سے پاکستان سول سروس اکیڈمی سے اس وقت کا پی اے ایس اور موجودہ دور کا سی ایس ایس کا امتحان دئیے بغیر تربیت حاصل کی۔ 1951ءمیں بلوچستان کے گورنر جنرل کے مشیر بنے۔ 1958ءمیں وزیر مملکت کے طور پر وفاقی کابینہ میں شامل رہے۔ 1960ءکی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہو گئے۔ 1973ءمیں نواب اکبر بگٹی کو صوبہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ 1988ءمیں اکبر بگٹی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ فروری 1989ءسے اگست 1990ءتک وہ بلوچستان کے منتخب وزیر اعلیٰ رہے۔ 1993ءکے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 26 اگست 2006ءمیں اکبر بگٹی جاںبحق ہو گئے۔