Poetry

وہ سلسلے وہ شوق وہ نسبت نہیں رہی ،
اب زندگی میں ہجر کی وحشت نہیں رہی ،

ٹوٹا ہے جب سے اسکی مسیحائی کا طلسم ،
دل کو کسی مسیحا کی حاجت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کے کوئی شناسا نہیں رہا
، پھر یوں ہوا کے درد میں شدت نہیں رہی

، پھر یوں ہوا کے ہو گیا مصروف وہ بہت
، اور ہم کو یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی

، اب کیا کسی کو چاہیں کے ہم کو تو ان دنوں
، ، خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی . .

:lajawab:

Aw. That’s love, heartbreak and life. :hinna:

Bauhat khoob, all the stanzas are amazing !

[quote=““Pakistani Prince””]

وہ سلسلے وہ شوق وہ نسبت نہیں رہی ،
اب زندگی میں ہجر کی وحشت نہیں رہی ،

ٹوٹا ہے جب سے اسکی مسیحائی کا طلسم ،
دل کو کسی مسیحا کی حاجت نہیں رہی

پھر یوں ہوا کے کوئی شناسا نہیں رہا
، پھر یوں ہوا کے درد میں شدت نہیں رہی

، پھر یوں ہوا کے ہو گیا مصروف وہ بہت
، اور ہم کو یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی

، اب کیا کسی کو چاہیں کے ہم کو تو ان دنوں
، ، خود اپنے آپ سے بھی محبت نہیں رہی . .
[/quote]

Kiya chahta tha mujhay!