Poet Itbaaf Abrak

کہنے کی بات کب ہے یہ کرنے کی بات ہے
دم عمر بھر کسی کا یہ بھرنے کی بات ہے

ہم نے کیا تھا عشق یہ جینے کے واسطے
کر کے خبر ہوئی کہ یہ مرنے کی بات ہے

ہے مختصر بہت یہ وفاؤں کی داستاں
پھولوں کے ڈالیوں سے بکھرنے کی بات ہے

کیسے ملائے بے وفا کوئی نظر یہاں
سودا تمام کر کے مکرنے کی بات ہے

ڈرتے ہیں لوگ جانے کیوں اس موت سے بھلا
در اصل زندگی یہاں ڈرنے کی بات ہے

ابرک نہیں ہے آساں بھلانا ہمیں کہ یہ
اپنے ہی دل سے خود ہی اترنے کی بات ہے

:k:


آج بھی رابطے میں رہتی ہیں
وہ نگاہیں جو پھیر لی تو نے

اتباف ابرک

:k:

کناروں نے کنارا کر لیا ہے
سو طوفاں کو سہارا کر لیا ہے

نہیں جس راہ پر منزل ہماری
وہی رستہ دوبارا کر لیا ہے

تھا کتنا شوق ہم کو زندگی کا
جو تیرے بن گزارا کر لیا ہے ہے

آیا وقت یہ دنیا پہ کیسا
کہ ہم جیسا گوارا کر لیا ہے

تجھے اب کون سمجھائے گا ابرک
جتن ہم نے تو سارا کر لیا ہے

Wah ga wah kia bat bht Ala poetry han ...

[quote=““humming bird””]
[urdu]

کناروں نے کنارا کر لیا ہے
سو طوفاں کو سہارا کر لیا ہے

نہیں جس راہ پر منزل ہماری
وہی رستہ دوبارا کر لیا ہے

تھا کتنا شوق ہم کو زندگی کا
جو تیرے بن گزارا کر لیا ہے ہے

آیا وقت یہ دنیا پہ کیسا
کہ ہم جیسا گوارا کر لیا ہے

تجھے اب کون سمجھائے گا ابرک
جتن ہم نے تو سارا کر لیا ہے

[/urdu]
[/quote]

Tha kitna shouq hum ko zindagi ka
Jo tere bin guzara kr liya hai :k: