what does this poem mean literally and figuratively .. thanks you
اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا
پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روتی کیوں ہے
شامِ گلشن کو نشہ بار ذرا کرنا تھا
تلخ لمحات نہیں دیتے کبھی پیاسوں کو
آسر ا دے کے ہمیں کچھ تو بھلا کرنا تھا
چاند پورا تھا اسے تکتے رہے یوں شب بھر
اپنی یادوں کا ہمیں زخم ہرا کر نا تھا
دونوں سمتوں کو ہی مڑنا تھا مخالف جانب
ساتھ اپنا ہمیں شعروں میں لکھا کرنا تھا
کرب سے آئی ہے نیناں میں یہ نیلاہٹ بھی
ضبطِ غم کا ہمیں کچھ فرض ادا کرنا تھا