Doraan e guftugu
Ba’maeenay waqfay aaney lag jaaein
Tou baqi guftugu be’maaeinay ho jati hai
Sou aey khuch sukhan meray!!!
Hamain ab khamoshi per dhi’an dena chahiyye apni!!!
Perveen Shakir
Doraan e guftugu
Ba’maeenay waqfay aaney lag jaaein
Tou baqi guftugu be’maaeinay ho jati hai
Sou aey khuch sukhan meray!!!
Hamain ab khamoshi per dhi’an dena chahiyye apni!!!
Perveen Shakir
Re: Perveen Shakir’s
Doraan e guftugu
Ba’maeenay waqfay aaney lag jaaein
tu Doctor say raju karien :k:
Re: Perveen Shakir's
Doctor e dil ya phir koi aur sa?
Re: Perveen Shakir's
Nice
Re: Perveen Shakir’s
![]()
Re: Perveen Shakir’s
kon sa doctor
dil ka ya dimaagh ka
Re: Perveen Shakir's
kon sa doctor dil ka ya dimaagh ka
Homeopathy....faida nai tu nuqsan bhi na ho
Re: Perveen Shakir’s
Doctor e dil chahye tu zyada dur dekhnay ki zaroorat nai :jano:
![]()
Re: Perveen Shakir’s
kya aap dil k doctor hain
Re: Perveen Shakir’s
is liye to aj kal hum khamosh rehty hain ta k waqt any prr hum ap sy sub kah sakain jan e mann ![]()
bhaiyya shex mine ![]()
Re: Perveen Shakir’s
G, mahina pehlay appointment leni paray gi app ko ![]()
Re: Perveen Shakir’s
![]()
Re: Perveen Shakir’s
![]()
Re: Perveen Shakir's
اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز
سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہو گا
میں یہاں ہوں مگر اُس کوچہ رنگ و بُو میں
روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہو گا
اور جب اُس نے وہاں مُجھ کو نہ پایا ہو گا!؟
آپ کو عِلم ہے، وہ آج نہیں آئی ہیں ؟
میری ہر دوست سے اُس نے یہی پُوچھا ہو گا
کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہُوئی ہے آخر
خُود سے اِس بات پہ سو بار وہ اُلجھا ہو گا
کل وہ آئے گی تو میں اُس سے نہیں بولوں گا
آپ ہی آپ کئی بار وہ رُوٹھا ہو گا
وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا کٹھن
سیڑھیاں چڑھتے ہُوئے اُس نے یہ سوچا ہو گا
راہداری میں ، ہرے لان میں ،پھُولوں کے قریب
اُس نے ہر سمت مُجھے آن کے ڈھونڈا ہو گا
نام بھُولے سے جو میرا کہیں آیا ہو گا
غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہو گا
ایک جملے کو کئی بار سُنایا ہو گا
بات کرتے ہُوئے سو بار وہ بھُولا ہو گا
یہ جو لڑکی نئی آئی ہے،کہیں وہ تو نہیں
اُس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہو گا
جانِ محفل ہے، مگر آج، فقط میرے بغیر
ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہو گا
کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہُوئی ہو گی اُسے
اُس نے بے ساختہ پھر مُجھ کو پُکارا ہو گا
چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پاکر
دوستوں کو بھی کسی عُذر سے روکا ہو گا
یاد کر کے مجھے، نَم ہو گئی ہوں گی پلکیں
’’آنکھ میں پڑ گیا کچھ‘‘ کہہ کے یہ ٹالا ہو گا
اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہو گئی پناہ
ہر سطر میں مرا چہرہ اُبھر آیا ہو گا
جب ملی ہوئی اسے میری علالت کی خبر
اُس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہو گا
سوچ کہ یہ، کہ بہل جائے پریشانیِ دل
یونہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہو گا!
اتفاقاً مجھے اُس شام مری دوست ملی
مَیں نے پُوچھا کہ سنوآئے تھے وہ کیسے تھے؟
مُجھ کو پُوچھا تھا؟مُجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟
اُس نے اِک لمحے کو دیکھا مجھے اور پھر ہنسی دی
اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے
کیا کہا اُس نے ۔۔ مُجھے یاد نہیں ہے لیکن
اِتنا معلوم ہے ،خوابوں کا بھرم ٹُوٹ گیا
Re: Perveen Shakir’s
kya aap monthly doctor hain?
Re: Perveen Shakir's
kya aap monthly doctor hain?
Depends on patient, Daily basis par bhi karta hon, Nagha ba'roz, Hafta, Itwar
Re: Perveen Shakir’s
Daily basis par bhi karta hon, Nagha:smack:
Re: Perveen Shakir’s
Nice 1…:k: