People can "listen" to pictures. Must read for Engg. scntst.

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بعض افراد جو دیکھتے ہیں اسے سن بھی سکتے ہیں **امریکی سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں بعض ایسے افراد موجود ہیں جو جس تصویر کو دیکھتے ہیں اسے سن بھی سکتے ہیں۔ **
سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک خاص طرح کی علامت ہوتی ہے جسے’سنستھیزیا‘ کہتے ہیں اور اس میں انسان کے کئی سینسز یا حس ایک دوسرے میں مل جاتے ہیں اور انسان جو سنتا ہے اسے دیکھ بھی سکتا ہے۔
امریکہ کے نیو سائنٹسٹ میگزین کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں محققین نے تین ایسے افراد کا پتہ لگایا ہے جن میں یہ علامت موجود تھی وہ جو چيز دیکھتے ہیں اسے سن بھی سکتے ہیں۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک طالب علم نے یہ دعوٰی کیا کہ وہ کمپیوٹر کے سکرین سیور میں سے کچھ آوازیں سن سکتے ہیں۔ انسانوں میں ایک عام علامت یہ پائی جاتی ہے کہ وہ کچھ الفاظ اور نمبروں کو رنگ کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

تعجب

میں یہ دیکھ کر حیران تھی کہ یہ علامت کتنی عام ہے اور اس کے باوجود بھی اسکے بارے میں رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ملیسا سینز

                            کئی فنکاروں میں بھی یہ علامت پائی گئی تھی ان میں سے ایک تھے ڈیوڈ ہوکنی جو موسیقی سنتے وقت اس میں رنگ دیکھ سکتے تھے۔
            کیلیفورنیا کی ڈاکٹر ملیسا سینز نے بعض طلباء میں اس علامت کا پتہ اس وقت لگایا جب وہ طلباء کے ایک گروپ کو لیب کا دورہ کرا رہی تھیں اور اس وقت ایک طالب نے علم نے یہ پوچھا کہ کمپیوٹر سکرین پر ایک چھوٹے چھوٹے ڈوٹس کی چلتی پھرتی تصویر کو کوئی سن سکتا ہے یا نہیں۔ 
            محترمہ نے سینز نے اس طالب علم سے سوال جواب کیے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس طالب علم میں سنستھیزیا کی علامت تھی۔ اس طالب علم کے                   ساتھ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ جس تصویر کو دیکھتا تھا اسے سن بھی سکتا تھا چاہے وہ تصویر کسی بھی قسم کی ہے۔                 
            اس کے بعد محترمہ سینز نے ڈوٹس کی وہی تصویر کوئی ایک سو طلباء کو بھیجی اور انہوں نے تین اور ایسے افراد کو پایا جو اس تصویر                   سے آواز سن سکتے تھے۔                 
            اس بات کی یقین دہانی کرنے کے لیے کہ یہ طلباء واقعی اس تصویر سے بعض آوازیں سن سکتے تھے  انہوں نے انہیں کئی طرح کی تصویریں دکھائیں                   اور ان طلباء نے پھر یہی کہا کہ وہ اس سے بیپ جیسی آواز یا کچھ فلیشیز سن سکتے ہیں ۔                
            جن افراد کو سنستھیزیا تھا وہ 85  فیصد تک صحیح تھے اور ان سب کو تقریباً ایک جیسی آوازیں سنائی دی تھیں۔ 
            محترمہ سینز کا کہنا ہے ’ میں یہ دیکھ کر حیران تھی کہ یہ علامت کتنی عام ہے اور اس کے باوجود بھی اسکے بارے میں رپورٹ نہیں کیا                   گیا ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’اس جائزے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کیا تصویروں سے آوازیں سننا اصل تھا یا نہیں۔‘

Re: People can "listen" to pictures. Must read for Engg. scntst.

bongiyan nahi maro.

the ear is sensitive to vibrations in the air. unless the picture is vibrating it will be hard to listen to it.

Re: People can "listen" to pictures. Must read for Engg. scntst.

or...you just take some LSD!

Dude thats way its a NEWS.

Ear synthesize air wave variation to convert it into voice.
WE see picture because it COMES to us through LIGHT which has a frequency.
Our retina/eye is sensitive to that frequency but not our ear.
So when those ppl were being MADE some newly recruited ANGELS must have screwed up.
The put ear which were sensitive to VHF/UHF HENCE these ppl CAN synthesize light wave through their ears.

Those angels must have bn fired by now!!

Re: People can “listen” to pictures. Must read for Engg. scntst.

yar. first off i cant make out the source of this research in the crappy urdu font in use. i can hardly read anything there, so am reliant on you to answer basic questions.

supposedly these people would also be able to hear radio signals, (if their frequency range doesnt skip from 20hz to the visual range directly). furthermore, the outer ear comprises an eardrum, which responds to vibrations in a medium such as air or water, much like a drum responding to a percussion. this is why we cant hear in a vacuum such as space, even though there may be EM radiations in the audible range.

ultimately the sensation of hearing is through the movement of fluid across tiny hair, in response to vibrations. this mechanism is very different from the retinal sensors.

What this maybe talking about maybe a neural confusion of the two senses, perhaps more relevant to psychologists than engineers: