ویسٹ لینڈ- Parveen Shakir

[RIGHT]ویسٹ لینڈ

ترے بغیر سرد موسموں کے خوشگوار دن اُداس ہیں
فضا میں دُکھ رچا ہُوا ہے!
ہَوا کوئی اُداس گیت گنگنارہی ہے
پُھول کے لبوں پہ پیاس ہے
ایسا لگتا ہے
ہَوا کی آنکھیں روتے روتے خشک ہوگئی ہوں
صبا کے دونوں ہاتھ خالی ہیں
کہ شہر میں تراکہیں پتہ نہیں
سانس لینا کِس قدر محال ہے!
اُداسیاں___اُداسیاں
تمام سبز سایہ دار پیڑوں نے
ترے بغیر وحشتوں میں اپنے پیرہن کو تارتارکردیا ہے
اب کسی شجر کے جسم پر قبا نہیں
سُوکھے زرد پتے
کُو بہ کُو تری تلاش میں بھٹک رہے ہیں
اُداسیاں____اُداسیاں
مرے دریچوں میں گلابی دُھوپ روز جھانکتی ہے
مگر اب اس کی آنکھوں
وہ جگمگاہٹیں نہیں
جو تیرے وقت میں زمین کے صبیح ماتھے پر
سُورجوں کی کہکشاں سجانے آتی تھیں
زمین بھی مری طرح ہے!
ترے بغیر اس کی کوکھ سے اب بھی
کوئی گُلاب اُگ نہ پائے گا
زمین بانجھ ہوگئی ہے
اور مری رُوح کی بہار آفریں کوکھ بھی!
میری سوچ کے صدف میں
فن کے سچے موتی کس طرح جنم لیا کریں
کہ میں سراپا تشنگی ہوں
اور دُور دُور تک____وصالِ اَبر کی خیر نہیں!
میرے اور تیرے درمیان
پانچ پانیوں کے دیس میں
(کچے گھڑے بھی تو میری دسترس سے دُور ہیں)
میں شعر کس طرح کہوں
میری سوچ کے بدن کو،تُو،نمو تو دے

میں ترے بغیر’’ویسٹ لینڈ‘‘ہوں[/RIGHT]

Re: ویسٹ لینڈ- Parveen Shakir

very nice sharing :k:

Re: ویسٹ لینڈ- Parveen Shakir

very nice thanks 4 sharing!

Re: ویسٹ لینڈ- Parveen Shakir

v nice sharing…par paen jorr torr mai likh k bachpan yad dila dia :cb:

Re: ویسٹ لینڈ- Parveen Shakir

meri to nazar b weak hai itna bara parha nai jata :hehe:

parveen shakir :k: