*کبھی چپ چاپ رہ کے بھی تماشہ بننا پڑتا ہے *
*نہ آئے ہونٹ پہ سسکی یہ چھل بھی کرنا پڑتا ہے
اداسی میں بھی محفل ہو کبھی رونا بنا آنسو
کچھ ایسا بھیس بھر کے تمکنت سے چلنا پڑتا ہے
کسی کی دید کی خواہش،کسی کا بولنا جادو
ایسے ہی کسی سحر کا ٹونہ سہنا پڑتا ہے
حقیقت وہ نہیں جو میں نے دیکھی اپنے خوابوں میں
حقیقت وہ جسے حقیقت میں بھی جلنا پڑتا ہے
ستارے آسماں پہ ہوں یا میری آنکھوں کے پیالوں میں
جو اپنی دسترس ہوں انہیں ہی مرنا پڑتا ہے
“زیہ” تم کیوں نصیب اپنے پہ روتے ہو سسکتے ہو
کبھی کچھ خوابوں کا تاوان بھی بھرنا پڑتا ہے۔۔۔
*