Paon k zakhm dikhany ki ejazat di ja,ay...

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے
ورنہ رہگیر کو جانے کی اجازت دی جائے

اس قدر ضبط مری جان بھی لے سکتا ھے
کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جائے

کارِ دنیا مجھے مجنوں نہیں بننا لیکن
عشق میں نام کمانے کی اجازت دی جائے

پھر نہیں ھو گا مرا شہرِ خموشاں سے گزر
سوئے لوگوں کو جگانے کی اجازت دی جائے

کوئی تریاق نہیں غم کے علاوہ غم کا
زھر میں زہر ملانے کی اجازت دی جائے

دوغلے پن کا ھنر سیکھ لیا ھے میں نے
اب مجھے شہر میں آنے کی اجازت دی جائے

2 Likes

phir tum sir pe utha lo ge zamanay bhar ko
sir uthane ki ijazat nahin di ja-ay gi

bus tumhein itin ijazat hai ke shaadi kar lo
afsane banane ki ijazat nahin di ja-ay gi

2 Likes

Super