pal bhar main aankhain moond lain

الفت کے باب کا صفحہ چپکے سے موڑ دیں
اتنی نہیں انا کہ محبت کو چھوڑ دیں
میرے حبیب تیرا اشارہ کبھی جو ہو
پل بھر میں آنکھ موند لیں دنیا کو چھوڑ دیں

(شگفتہ شفیق)